کو مرکزی گورنمنٹ نے کوفہ کا گورنر بنادیا۔ (اکمال وغیرہ)
فوا ئدو مسائل: {۱} اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الشُروط میں بھی ذکر کیا ہے اور امام مسلم نے کتاب الایمان میں اور امام نساء نے بیعت کے باب میں تحریر کیا ہے۔ (1)
{۲}’’ نصیحۃ ‘‘عربی میں بہت ہی جامع لفظ ہے۔اردو میں اس کا ترجمہ ’’خیر خواہی کرنا ، دوسروں کا بھلا چاہنا‘‘ہے۔
’’دوسروں کا بھلا چاہنا‘‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ ’’خیر خواہی‘‘ کرنا، اس کے مفہوم میں بڑی وُسْعَت ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ’’ہر مسلمان کی خیر خواہی ‘‘یہ ایک ایسا عملِ خیر ہے کہ اگر ہر مسلمان اس تعلیم نبوت کو حِرزِ جان بنا کر اس پر عمل شروع کردے تو ایک دم مسلمانوں کے بگڑے ہوئے معاشرہ کی کایا پلٹ جائے اور’’مسلم معاشرہ ‘‘ آرام و راحت اور سکون و اطمینان کا ایک ایسا گہوارہ بن جائے کہ دنیاہی میں بِہِشْت کے سکون و اطمینان کا جلوہ نظر آنے لگے۔
ظاہر ہے کہ جب ہر مسلمان اپنی زندگی کا یہ نصب العین بنالے گاکہ میں ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گاتو ہر قسم کے مکرو فریب،نقصان و ضرر ،ظلم و ستم ،بغض و حسد، خِلاف و شِقاق،عِناد و نِفاق،بدخواہی و اِیذا رَسانی تمام قبِیح خصلتوں کا مسلمانوں کے گھروں سے جنازہ نکل جائے گااور ہر مسلمان ہر ایک مسلمان کے لیے صلاح وفلاح اور نفع رَسانی و بھلاءی کے سوا نہ کچھ کر سکے گانہ کچھ سوچ سکے گانہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کے ساتھ خیانت کرے گانہ چغلی غیبت اور اِفترا پردازی کا مرتکب ہوگانہ ظلم کے کسی پہلو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔۔۔الخ،
تحت الحدیث:۵۸،ج۱،ص۴۷۴