Brailvi Books

منتخب حدیثیں
226 - 243
خطا کاروں کی خطائیں   معاف کرنے والا تھا۔پھراس کے بعد آپ نے یہ حدیث سناءی کہ میں  جب بارگاہ رسالت میں  اسلام قبول کرنے کے لیے حاضر ہوا اور میں  نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں  یہ درخواست پیش کی کہ یارسو ل اللہ !میں  اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کرتا ہوں تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  نے اس شرط پر مجھ کو بیعت فرمایا کہ اسلام پر قائم رہنے کے ساتھ ساتھ تم عمر بھر ہر مسلمان کی خیر خواہی کرتے رہنا۔ چنانچہ میں  نے اس شرط کو قبول کرتے ہوئے بیعت کی۔ لہٰذا میں  اس مسجد کے رب کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں  جس طرح اپنی بیعت کے مطابق آج تک ہر مسلمان کی خیر خواہی کرتا رہاہوں تمہارا بھی خیر خواہ ہوں  اور تمہاری خیر خواہی کا جذبہ رکھتے ہوئے میں  تم لوگوں کو پُرسکون  رہنے کی تلقین کرتا ہوں ۔ اس کے بعد آپ نے مغفرت کی دعا فرمائییاورمنبر سے اترگئے۔
حضرت مُغِیْرہ بن شُعْبہ:بہت ہی شاندار اور زیرک و ہوشیار صحابی ہیں ۔مُلکی انتظام اور نظم و نسق قائمکرنے کا ان کو بڑا ملکہ اور بہترین مہارت تھی۔ انتہا ئیطاقتور ،عالی دماغ اور بہادر تھے۔ان کا تعلق قبیلہ ثَقِیْف سے تھا اس لیے ثَقَفی کہلاتے ہیں ۔جنگ ِ خَنْدق کے سال    ۵ھ؁ میں  اسلام قبول کیا اور ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے۔
	حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنے دورِ خلافت میں  ان کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا تھا اور حضرت امیر مُعاوِیہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اپنے دور حکومت میں  ان کو کوفہ کا گورنر بنادیا تھا ۔چنانچہ کوفہ کی گورنری کے دوران ہی ۵۰ھ؁ میں  مرض طاعون میں  مبتلا ہوکر ستر سال کی عمر میں  وصال فرمایا(1) اور ان کے بعد حضرت جریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال، حرف المیم، فصل فی الصحابۃ، ص۶۱۶
            والاعلام للزرکلی،ج۷،ص۲۷۷