کرو اس لیے کہ وہ بھی عفو ودر گزر کو پسند کرتے تھے ۔پھر فرمایا کہ جب میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (بیعت کے لیے) حاضر ہوا اور میں نے عرض کیاکہ میں اسلام پر بیعت کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے ساتھ یہ شرط لگاکر کہ ہر مسلمان کی ’’خیر خواہی‘‘ کرنا مجھے بیعت فرمایاتو میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کرلی۔ مجھے اس مسجد کے رب کی قسم ہے کہ (اے کوفہ والو!) میں تمہارا خیرخواہ ہوں ۔پھر آپ نے مغفرت کی دعا مانگی اور منبر پر سے اُترگئے۔
شرحِ حدیث:حضرت جریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ کے گورنر حضرت مُغِیْرہ بن شُعْبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے دن کوفہ کی جامع مسجد میں خطبہ پڑھتے ہوئے اس حدیث کو بیان فرمایا۔ چونکہ گورنر کے انتقال کے بعد عموماً عوام میں اِنْتِشار پھیل جانے کا خطرہ ہوتا ہے خصوصاً کوفہ جہاں کے لوگ اِنْتِشار اور ہِیجان پھیلانے کے عادی تھے اس خطرہ کا بہت زیادہ امکان تھا اس لیے حضرت جریر بن عبد اللہ بَجَلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عوام کو پر سکون رہنے کی تلقین فرمانے کے لیے یہ خطبہ دیا اور اس خطبہ میں خدا کی حمد و ثناء کرنے کے بعد آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو!تم لوگ اپنے ہر عمل اور اپنی ہر حرکت و سکون میں ہمیشہ خوف الٰہی کو اپنے پیش نظر رکھو اور خبر دار !کوئی ایسی حرکت نہ کرو جس سے اللہ تعالیٰ تم پر ناراض ہو جایئں۔پھر فرمایا کہ تم لوگ نہایت ہی سکون و اطمینان کے ساتھ رہو بہت جلد مرکزی حکومت کی طرف سے نیا گورنر آنے والا ہے جو آکر نظام ِحکومت سنبھال لے گا۔پھر آپ نے عوام سے یہ فرمائش کی کہ تم لوگ اپنے سابق گورنر (حضرت مغیرہ بن شعبہ) کے لیے دعائیں مانگو کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مغفرت کے انعام واکرام سے نوازے کیونکہ تمہارا سابق گورنر بہت زیادہ درگزر کرنے والا اور