Brailvi Books

منتخب حدیثیں
224 - 243
	حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کی اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر اس پر ایمان کے ساتھ پورے پورے طور پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے اس کی سعادت دارین کی گارنٹی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر بیٹی والے باپ کو اس آزماءش اور امتحان میں  کامیاب فرمائیےاور اپنی امداد و نصرت سے ایسے والدین کی خاص طور پرمدد فرمائیے۔
آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہِ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔
خیر خواہی
حدیث :۳۹
        عَنْ زِیَادِ بْنِ عَلَاقَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ جَرِیْرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ یَقُوْلُ یَوْمَ مَاتَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ قَامَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: عَلَیْکُمْ بِاتِّقَاء اللّٰہِ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَالْوَقَارِ وَالسَّکِیْنَۃِ حَتّٰی یَاْتِیَکُمْ اَمِیْرٌ فَاِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ الْآنَ ثُمَّ قَالَ: اِسْتَعْفُوْا لِاَمِیْرِکُمْ فَاِنَّہٗ کَانَ یُحِبُّ الْعَفْوَ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلَامِ فَشَرَطَ عَلَیَّ وَالنَّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ فَبَایَعْتُہٗ عَلٰی ھٰذَا وَرَبِّ ھٰذَا الْمَسْجِدِ اِنِّیْ لَنَاصِحٌ لَکُمْ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ   (1)(بخاری،ج۱،ص۱۴)
	ترجمہ:زیاد بن عَلاقہ سے روایت ہے، انہوں  نے کہا کہ میں  نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سُناجس دن مُغِیْرہ بن شُعْبہ (حاکم کوفہ) کا وِصال ہوا تو وہ (خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا کہ تم لوگوں پر لازم ہے کہ اللہ سے ڈرو جو وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ ہے اور وقار و سکون کو لازم پکڑو یہاں تک کہ تمہارا دوسرا حاکم آجائے اور وہ اب آتا ہی ہے پھر کہا کہ اپنے سابق حاکم کے لیے مغفرت کی دعا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔۔۔الخ،           الحدیث:۵۸،ج۱،ص۳۵