Brailvi Books

منتخب حدیثیں
223 - 243
 فرمایا یعنی خدا نے اس کو بیٹیاں دے کر امتحان اور آزماءش میں  ڈالا ۔سوال یہ ہے کہ خدا نے بیٹیوں کو باپ کے لیے ذریعۂ اِ بْتِلا و آزماءش کیوں فرمایا؟تو اس کی و جہ یہ ہے کہ لوگ چونکہ عموماً بیٹیوں سے رغبت نہیں  رکھتے بلکہ بعض تو نفرت کرتے ہیں ۔ چنانچہ قرآن کریم میں  انسانی عادت کا بیان فرماتے ہوئے حضرت حق جل مجدہٗ نے ارشادفرمایا کہ 
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ۵۸﴾ (1)o
یعنی جب کسی کو بیٹی ملنے کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا منہ کالا پڑجاتا ہے اور وہ  ُگھٹنے لگتا ہے۔
	غرض بیٹیاں عام طور پر ناپسندیدہ ہوا کرتی ہیں  اور جب کسی کو کوئی ایسی چیز ملے جو اس کو پسند نہ ہو تو درحقیقت وہ چیز اس کے لیے ذریعۂ اِبْتِلا اور آزماءش ہی کا سامان ہوگی اسی لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  نے بیٹیوں کو باپ کے لیے ذریعۂ اِبْتِلااور آزماءش اور امتحان کا سامان بتایا۔
{۴} اس حدیث میں  ان ماؤں اور باپوں کے لیے بہت بڑی’’بشارت عظمیٰ‘‘ اور عظیم الشان خوشخبری ہے جو چند بیٹیوں کے ماں باپ ہیں  اور محبت و شفقت کے ساتھ ان بیٹیوں کو خدا کی نعمت سمجھ کر پالتے اور پرورش کرتے ہیں  اور بالغ ہوجانے پر پورے اعزاز کے ساتھ اس کی شادی بیاہ کرکے ان کو اپنے گھر سے رخصت کرتے ہیں ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ان ماؤں اور باپوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  قیامت کے دن اپنے ساتھ رکھیں  گے اور یہ ایمان ہے کہ قیامت کے دن جس خوش نصیب کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  کا دامنِ رحمت مل گیا اس کا بیڑا پار ہوگیا ۔یقینا اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے آزاد فرمادے گا اور ضرور اس کو جنت عطا فرمادے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان:اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا 
        رہتا ہے اور وہ غصہ کھا تا ہے۔  (پ۱۴،النحل:۵۸)