کی بات بیان کردی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیٹیوں کے ساتھ مبتلا کیا گیا اور انکے ساتھ اچھا سلوک کیا تو یہ بیٹیاں اسکے لیے جہنم سے پردہ بن جایئں گی۔
فوا یدو مسائل:{۱} اس حدیث کی بعض روایتوں میں یوں بھی آیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَوْجَبَ لَھَا بِھَا الْجَنَّۃَ اَوْاَعَتَقَھَا بِھَا مِنَ النَّارِ (1) (مسلم ،جلد۲،ص۳۳۰) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس عورت کےلیےجنت واجب فرمادی یا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس عورت کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے آزاد فرمادیا۔
اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں یوں آیاہے کہ جو مسلمان دو بیٹیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کرے گا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر فرمایا کہ میں اور وہ دونوں اس طرح قیامت کے دن ساتھ رہیں گے۔
{۲}اس حدیث میں ہے کہ جب بھیک مانگنے والی عورت اپنی دو لڑکیوں کے ساتھ حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئی تواس وقت حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک ہی کھجور تھی وہی ایک کھجور انہوں نے سوال کرنے والی عورت کو دیدی ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ کے لیے مال کثیر ہی ضروری نہیں ہے بلکہ کم سے کم چیز کو بھی صدقہ کرنے میں شرم و حیاء نہیں کرنی چاہئے ۔اللہ تعالیٰ نیتوں کو دیکھنے والا ہے وہ تھوڑے صدقہ پر بھی زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے بشرطیکہ صدقہ دینے والے میں اخلاص نیت ہو۔
{۳}اس حدیث میں بیٹی والے باپ کو حضور نے’’مَنِ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَیْءٍ‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ۔۔۔الخ،باب فضل الاحسان الی البنات، الحدیث:۲۶۳۰،
ص۱۴۱۵