ہے اور برابر ان کی قبروں میں ثواب پہنچتا رہتا ہے۔
ان میں سے پہلا شخص تو وہ ہے جو اپنی زندگی میں کوئی ’’صدقہ جاریہ ‘‘ کر کے مرا ہو تو اگر چہ وہ مرکر قبر میں سو رہا ہے اور کوئی عمل نہیں کررہا ہے مگر اُس کے نامۂ اعمال میں اس کے ’’صدقہ جاریہ ‘‘کا ثواب برابر درج ہوتا رہتا ہے ۔
’’صدقہ جاریہ ‘‘کیا ہے؟ مثلاً مسجد بنوانا، مدرسہ بنوانا، کنواں بنوانا، مسافر خانہ بنوانایاکارخیر کے لیے کوئی جائداد وقف کردینا ۔جب تک یہ چیزیں باقی رہیں گی برابر ان کے ثواب کا سلسلہ قائمرہے گا اور ہر لحظہ اور ہر لمحہ اس کا ثواب ملتا رہے گا۔اس کی بنوائی ہوئی مسجدمیں جو نمازیں پڑھیں جایئں گی اور جتنی نمازیں پڑھیں جایئں گی جس طرح نماز پڑھنے والوں کو ثواب ملے گا اسی طرح مسجد بنوانے والے کو بھی اس کا ثواب ملتا رہے گا۔اس کے بنوائے ہوئے مدرسہ میں جو لوگ پڑھیں ،پڑھائیں گے، اس کے بنوائے ہوئے کنویں سے جتنے پیاسے سیراب ہوں گے،جتنے لوگ وضو کریں گے ان سب کا ثواب مدرسہ اورکنواں بنوانے والے کو ملے گا۔اسی طرح جائداد موقوفہ سے جتنے کارخیر ہوں گے سب کا ثواب واقف کو ملتا رہے گااور وقف کرنے والے کی قبر میں اجر و ثواب پہنچتا رہے گا۔
دوسر ا شخص و ہ ہے جو کوئی ایسا علم چھوڑ کر مرا ہوجس سے اُمَّت ِرسو ل کو نفع حاصل ہوتا ہومثلًا کوئی مفید کتاب لکھ کر مرا ہویا کچھ شاگردوں کو علم پڑھا کر مرگیا ہویا علم دین کی کتابیں خرید کر وقف کرگیا ہو تو جس طرح علم دین پڑھنے پڑھانے والوں کوثواب ملے گا اسی طرح اس شخص کو قبر میں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔
تیسرا شخص وہ ہے جس نے اپنی اولاد کو تعلیم و تربیت دے کر نیک اور صالح