Brailvi Books

منتخب حدیثیں
218 - 243
 مثلًا  مولانا جلال الدین سیوطی،امام غزالی ،اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیر ہ ایسے ایسے بابرکت لوگ گزرے ہیں  کہ ان کی عمر وں میں  اس قدر زیادہ برکت ہوگئی کہ ان کی تصنیفات اور ان کی عمروں کا حساب لگایا جائے توایک ایک دن میں  اتنے اتنے اوراق ان بزرگوں نے تصنیف کردئے ہیں  کہ اگر آج کوئی بڑا ہی زُود نو ِیس ان کو نقل کرنا چاہے تو ایک ہفتہ میں  بھی ان کو نقل نہیں  کرسکتا کیوں؟ اس لیے کہ ان بزرگوں کے اوقات میں  برکت ہوا کرتی تھی ان کی تھوڑی سی عمریں  اگرچہ مقدار میں  تو تھوڑی تھیں مگر برکت ہوجانے سے ان کی عمریں  بہت بڑھ گئیں  اور لمبی لمبی عمروں والے اگر چہ مقدار میں  تو ان کی عمریں  بہت لمبی تھیں  مگر برکت نہیں  ہوئی تو اتنی جلد ان کی عمریں  ختم ہوگئیں   کہ گویا بہت ہی کم تھیں ۔
	تو اس حدیث میں  ’’صلہ رحمی‘‘کرنے والے کی روزی اور عمر میں  زیادتی اور درازی کا یہی مطلب ہے کہ اس کی روزی اور عمر میں  برکت ہوجاتی ہے۔
{۲}بعض شارحین ِحدیث نے فرمایا کہ رِزق اور عمر میں  زیادتی کایہ مطلب ہے کہ اس کی روزی اور عمر ضاءع نہیں ہوتی بلکہ فرشتہ نے جو روزی اور عمر لکھ دی ہے نہ اس روزی کا ایک دانہ ضاءع ہوتا ہے نہ اُس عمر کا ایک لمحہ برباد ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کی روزی اور عمر کا بہت سا حصہ ضاءع ہوجایا کرتا ہے تو جس کی روزی اور عمر کا کچھ حصہ بیماریوں اور دوسر ے عَوارض کی و   جہ سے ضاءع اور بے کار ہوگیا گویا اس کی روزی اور عمر گھٹ گئی اور جس کی روزی بالکل ضاءع اور برباد نہیں  ہوئی گویا اس کی روزی اور عمر بڑھ گئی۔
{۳}بعض علما ء نے فرمایا کہ روزی اور عمر بڑھنے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو نیک اولاد عطا فرماتا ہے جس کی بدولت مرنے کے بعد بھی اس کا ذکر ِجمیل دنیا میں  باقی رہتا