Brailvi Books

منتخب حدیثیں
217 - 243
	کیوں؟اس لیے کہ دُنیا عالم ِاسباب ہے اور خداوند ِکریم مُسَبِّبُ الاسباب ہے اس نے جس چیز کو جس چیز کاسبب بنانا چاہا اس کاسبب بنادیا، کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کس لیے ہوا؟بندہ اس کی حکمتوں سے نہ کماحقہ واقف ہے نہ واقف ہوسکتا ہے سب جانتے ہیں  کہ’’ سَنْکِھیا‘‘زہر ِ قاتل ہے اور’’تریاق‘‘زہروں کا علاج ہے مگر کوئی بتاتو دے کہ سنکھیا کیوںاور کیسے اور کس لیے زہر قاتل ہے ؟ اور تریاق کیوں اور کیسے اور کس لیے زہروں کا علاج ہے؟ ان اسباب و مُسَبَّبات کے رَبط و اِرْتِباط کو ’’مُسَبِّبُ الاسباب‘‘ کے سوا کوئی نہیں  جانتا۔
ایک سوال وجواب:ہاں! یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ’’باب الْقَدَر‘‘ کی حدیثوں میں  مذکور ہے کہ بچہ ماں کے شکم میں  رہتا ہے اسی وقت ایک فرشتہ اس کی عمر، روزی اور سعادت و شَقاوَت خدا کے حکم سے لکھ دیتا ہے جو مٹ نہیں  سکتاتو جس قدر عمر اور روزی فرشتہ نے لکھ دی ہے اب اس سے زیادہ عمر اور روزی کیسے بڑھ سکتی ہے؟ تو اس سوال کا شارحین ِحدیث نے کئ طرح سے جواب دیا ہے۔ ان میں  سے چند یہ ہیں :
{۱}انسان کی عمر اور روزی کی مقدار تو گھٹ بڑھ نہیں  سکتی ۔فرشتہ نے بحکم الٰہی جتنی عمر اور روزی لکھ دی ہے اس کی مقدار تو اتنی ہی رہے گی مگر اللہ تعالیٰ مقدار میں  اتنی برکت عطافرمادے گا کہ یہ بہت زیادہ معلوم ہونے لگے گی۔
	کسی چیز میں  ’’برکت ‘‘اور ’’بے برکتی‘‘کا تجر بہ تو تقریباًہر انسان کو ہوتا ہی رہتا ہے یہی بارہ گھنٹے کا دن کبھی اتنا مختصر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کام ہی نہیں  ہوتا اور چٹ پٹ دن ختم ہوجاتا ہے اور کبھی اتنا دراز ہوجاتاہے کہ کئ کئ دنوں کا کام ایک ہی دن میں  ہوجاتا ہے اور دن اتنا بڑا معلوم ہوتا ہے کہ کاٹے نہیں  کٹتا ۔چنانچہ مصنفین اسلام