Brailvi Books

منتخب حدیثیں
216 - 243
درازیٔ عمر کا نسخہ
حدیث :۳۶
          عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّبْسَطَ لَہٗ فِیْ رِزْقِہٖ وَیُنْسَاَ لَہٗ فِیْ اَثَرِہٖ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ  (1)(مشکوٰۃ،باب البر والصلہ،ص۴۱۹)
	ترجمہ:حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے، انہوں  نے کہا کہ میں  نے رسول اللہ  عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جس شخص کو یہ اچھا لگے کہ اس کی روزی میں  فراخی اور اس کی عمر میں  درازی ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے۔
فوا ئدو مسائل:{۱} اس بات کو ہر شخص جانتا ہے کہ یہ دنیا عالم اسباب ہے ۔یہاں کے ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوا کرتا ہے اس لیے ’’رزق ‘‘میں  زیادتی اور عمر کی درازی کے بھی چنداسباب ہیں ۔اُن میں  سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور نیک سلوک کرتا رہے تو اس عملِ خیر کی برکت سے ان شاء اللہ تعالیٰ اس کی روزی میں  فراخی و فراوانی ہو جایئں گی اور اس کی عمر بھی بڑھ جائے گی۔
{۲}اس حدیث کی شرح میں  حضرت عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نے فرمایا کہ جب شارع علیہ السلام نے یہ خبر دی ہے تو ایک مومن کے لیے ہے کہ اس پر ایمان رکھے اور بے چون و چرا اس پر عمل کرتا رہے اور صلہ رحمی کیوں روزی اور عمر کی زیادتی کا سبب ہے؟اور کس طرح سبب ہے؟ اس کا علم خدا کے سپرد کردے اور ہر گز ہرگز اس معاملہ میں  بحث و مباحثہ نہ کرے۔ (اشعۃ اللمعات،ج۴،ص۱۰۹)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب البر والصلۃ، الحدیث: ۴۹۱۸،ج۲، ص۲۰۵