Brailvi Books

منتخب حدیثیں
215 - 243
 ظاہر ہوا بلاشبہ وہ دُنیا و آخرت میں  قابل ِمذمت ،لائق ِعذاب اور مخلوقات اور خالق ِکاءنات کی ناراضگی کا سبب ہے اور اگر کسی خوفناک ڈاکو کو ڈاکہ ڈالتے وقت دیکھ کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے مارے غصہ کے دانت پیستے ہوئے بندوق چلا کر اس ڈاکو کا خاتمہ کردیا تو چونکہ آپ کا یہ غصہ بالکل برمحل اور عین موقع کے مطابق ہے کہ آپ نے ایک خطرناک ڈاکو کو قتل کرکے ہزاروں بندگانِ خدا کو سکون و اطمینان کی جنت دلادی لہٰذا آپ گورنمنٹ کے انعام ،پبلک کے اعزاز و اکرام اور خُداوند ِذوالْجَلال کی طرف سے اجر ِ لازوال کے مستحق ہوں  گے۔
ایک مثال:گویا یوں سمجھ لیجئے کہ غصہ ایسا ہی ہے جیسے ’’استرہ ‘‘ظاہر ہے کہ اگر ’’استرہ ‘‘ سے حجامت بناءی جائے تو یہ بہت ہی اچھی چیز ہے اور اگر استرہ سے ناک کاٹ لی جائے تو یہ بہت ہی بُری چیز ہے۔تو ’’استرہ ‘‘بذات خود نہ اچھا ہے نہ برا بلکہ اگر اس سے اچھا کام لیا جائے تو یہ اچھا ہے اور اگر اس سے بُرا کام لیا جائے تو یہ بُرا ہے ۔بس غصہ بھی بالکل ایسا ہی ہے کہ اگر غصہ آنے پر اس غصہ سے کوئی اچھا کام ہوا تو یہ غصہ اچھا ہے اور اگر اس غصہ سے کوئی بُرا کام ہوا تو یہ غصہ بُرا ہے اس لیے نہ یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر غصہ اچھا ہے نہ یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر غصہ بُرا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غصہ اچھا بھی ہے اور بُرا بھی ۔
	حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی کا یہی مطلب ہے کہ جو شخص غصہ کی حالت میں  اپنے نفس پر کنٹرول رکھے کہ اُس کے غصہ سے کوئی خلاف شریعت کام نہ ہونے پائے وہ ’’پہلوان ‘‘کہلانے کا مستحق ہے اور ایسا آدمی دنیا و آخرت میں  اجر و ثواب کا حقدار ہے کیونکہ اس کے غصہ سے کوئی بُرا کام نہیں  ہوا لہٰذا اس کا غصہ بُرا نہیں  ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔