حفاظت کابھی اہل نہیں رہے گا۔ظاہر ہے کہ سانپ کو مارڈالنا ،چوروں اور ڈاکوؤں سے لڑنا،کفار سے جہاد کرنا،مجرموں کو سزائیں دینا یہ سب غصہ ہی کے کارنامے توہیں ۔اگر سانپ کو دیکھ کر آپ کو غصہ نہ آئے بلکہ اس پر پیار آجائے تو آپ سانپ کو دیکھ کر فوراً ہی اس کو اپنے کلیجے سے چمٹالیں گے اور اس کے چکنے چکنے منہ کا بوسہ لینا شروع کردیں گے اور وہ چند ہی منٹ میں آپ کو ’’عدم آباد‘‘کا ٹکٹ دے دیگا۔اور ذرا دیر میں نہ آپ ہندوستان میں رہیں گے نہ پاکستان میں بلکہ بغیر ویزا پاسپورٹ کے آپ ’’قبرستان ‘‘ میں پہنچ جایئں گے۔یہ غضبی قوت اورغصہ کی طاقت ہی کا کرشمہ توہے کہ آپ سانپ کو مار کر اپنے سرمایۂ حیات کی حفاظت کا سامان کرلیتے ہیں ۔آپ کو اپنے دشمنوں پر غصہ آتا ہے اسی لیے تو کیسے کیسے خوفناک ہتھیار اور ان کی گرفتاری کے لیے کیسے کیسے تیز رفتار ہواءی جہاز اور راکٹ آپ نے ایجاد کیے ہیں ۔یہ ساری جنگی ایجادات حضرت غصہ ہی کے طفیل تو ہیں جن سے آج دنیا میں چہل پہل ہے ۔اگر موسموں کے مظالم، جاڑا گرمی اور بدن کی عریانی پر آپ کو غصہ نہ آتا تو یہ سینکڑوں قسم کی پوشاکیں کہاں سے تیارہوتیں ؟
بہرحال یہ عرض کرنا ہے کہ غصہ ہر انسان میں ہوناکمال انسانی کے لوازم میں سے ہے اور غصہ فی نفسہ اور بذات خود نہ اچھا ہے نہ بُرابلکہ غصہ اچھا اور بُرا اس و جہ سے ہوا کرتا ہے کہ بے محل غصہ آیااور اس کے برے اثرات ظاہر ہوئے مثلًا ایک ماں سے بچھڑے ہوئے بھوکے پیاسے دودھ پیتے بچے کی گریہ و بُکا اور اس کے رونے پر آپ کو غصہ آگیا اور آپ نے اس بچے کا گلا گھونٹ کر اس کو مارڈالا تو ظاہر ہے کہ رحمت و شفقت کے موقع پر آپ کا غصہ یقینا بے محل اور بے موقع ہے اور اس غصہ سے جو بے رحمی کا اثر