وہ کوئی خلاف شریعت حرکت نہ کرسکے اس لیے لوگوں کو پچھاڑنے والا نہ تو شریعت کی نگاہ میں کوئی قابل تعریف کارنامہ انجام دینے والاہے نہ دنیا و آخرت میں کسی مدح و ثنا کا مستحق اور اجر و ثواب کا حقدار ہے ۔مگر عین حالت غیظ و غضب میں جو شخص اپنے نفس پر کنٹرول اور قابو رکھے اور اس طرح اپنے نفس اَمّارہ پر غالب ہو کر اس کو دبائے رکھے کہ گناہ کا صادر ہونا تو بڑی بات ہے اس کے حاشیۂ خیال میں کسی گناہ کا تصور بھی نہ گزرے۔ یہ شریعت کی بارگا ہ میں یقینا دنیا و آخرت کے اندر لائق ِصد تحسین و آفرین ہے اور دونوں جہان میں انعام و اکرام کے اجرو ثواب کے قابل ہے۔
جسمانی و روحانی طاقت: اس کا راز یہ ہے کہ کسی کو پچھاڑ دینایا بہت زیادہ بوجھ اٹھا لینا یا مضبوط چیزوں کو توڑ ڈالنا یہ سب جسمانی طاقتوں کے کارنامے ہیں مگر نفس پر کنٹرول اور شہوانی و غضبانی طاقتوں پر قابو پالینا یہ ’’روحانی طاقت ‘‘کا کرشمہ ہے اور یہ آفتاب سے زیادہ روشن حقیقت ہے کہ روحانی طاقت والا جسمانی طاقت والے سے بہت زیادہ باکمال اور طاقتور ہوا کرتا ہے ۔یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال نے کہا ہے کہ ؎
کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
غصہ:کسی خلاف طبیعت چیزیا بات پر نفس کا جوش مارنا ،اس کیفیت کا نام ’’غصہ ‘‘ ہے۔ غصہ بذات خود نہ اچھا ہے نہ بُرا بلکہ غصہ اپنے اچھے یا برے اثرات و ثمرات کے لحاظ سے اچھا یا بُرا ہوا کرتا ہے ۔اگر کسی انسان میں بالکل ہی غصہ کا مادہ ہی نہ ہو تو وہ انسان بہت سے انسانی کمالات سے محروم رہ جائے گایہاں تک کہ وہ اپنی جان و مال کی