Brailvi Books

منتخب حدیثیں
212 - 243
توہین و تَنْقِیْص ہے نہ اِیذا رَسانی بلکہ صرف راویوں کی شناخت اور ان کے تعارف کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔(1)(نووی علی المسلم،ص۳۲۲) 
پہلوان کون ہے؟
حدیث :۳۵
	 عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَۃِ اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکَ نَفَسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ (2)
					 (مسلم شریف،ج۲،ص۳۲۶)
	 ترجمہ:حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں  کہ رسول اللہ  عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے فرما یا کہ لوگوں کو پچھاڑ دینے والا پہلوان نہیں  ہے پہلوان تو وہی ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کا مالک ہے۔
شرحِ حدیث: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اس شخص کو بہت ہی طاقتور اور ’’پہلوان‘‘ سمجھتے ہیں  جو دوسروںکو پچھاڑ دے اور لوگ اس کو نہ پچھاڑ سکیں لیکن اللہ و رسول کے نزدیک بہت زیادہ طاقتور اور پہلوان وہ شخص ہے کہ اگر چہ وہ کسی کو پچھاڑ نہیں  سکتا لیکن اس میں  قُوَّتِ حِلْم اور طاقت ِبرداشت کا اتنا عظیم خزانہ ہو کہ وہ شدتِ غیظ و غضب کی حالت میں  بھی اپنے نفس پر پوراپورا کنٹرول اور قابو رکھتا ہو اور غصہ کی حالت میں  بھی اس سے کوئی ایسا فعل صادرنہ ہو جو عقل یا شریعت کے خلاف ہو بلکہ عین غضب کی حالت میں  بھی اس کے غصہ کے جوش پر اس کا ہوش غالب رہتا ہو جس کی و جہ سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح صحیح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والادب،باب تحریم الغیبۃ، ج۲،ص۳۲۲ 
2…صحیح مسلم،کتاب البر۔۔۔الخ،باب فضل من یملک نفسہ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۶۰۸،ص۱۴۰۶