کن کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟:حضرت علامہ ابو زکریا محی الدین بن شرف نَوَوِی (متوفی ۶۷۶ھ )نے مسلم شریف کی شرح میں فرمایا ہے کہ شرعی اَغراض و مَقاصد کےلیےکسی کی غیبت کرنا جائز اور مُباح ہے اور اس کی چھ صورتیں ہیں :
اول: مظلوم کا حاکم کے سامنے کسی ظالم کے ظالمانہ عیوب کو بیان کرنا تاکہ اس کی داد رَسی ہوسکے۔
دوم: کسی شخص کو بُراءی سے روکنے کیلئے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اس کی براءیوں کا ذکر کرنا تاکہ وہ صاحب ِ اقتدار اپنے رُعْب داب سے اُس کو براءیوں سے روک دے۔
سوم: مفتی کے سامنے فتویٰ طلب کرنے کے لیے کسی کے عُیوب پیش کرنا ۔
چہارم: مسلمانوں کو شر وفساد اور نقصان سے بچانے کے لیے کسی کے عیوب کو بیان کرنا مثلاً جھوٹے راویوں، جھوٹے گواہوں ، بدمذہب مُصَنِّفوں اور واعِظوں کے جھوٹ اور بد مذہبی کو لوگوں سے بیان کردینا تاکہ لوگ گمراہی کے نقصان سے محفوظ رہیں یا شادی بیاہ کے بارے میں مشورہ کرنے والے سے فریق ثانی کے عیوب کو بتادینا یا خریدار کو نقصان سے بچانے کےلیےسامان یا سودا بیچنے والے کے عیوب سے باخبر کردینا ۔
پنجم: جو شخص علی الاعلان فِسْق و فُجور اور بدعادات و مَعْصِیات کا مرتکب ہو اس کے عیوب کو بیان کرنا ۔
ششم: کسی شخص کی شناخت اور پہچان کرانے کیلئے اس کے کسی مشہور عیب کو اس کے نام کے ساتھ ذکر کردینا ۔جیسے محدثین کا طریقہ ہے کہ ایک ہی نام کے چند راویوں میں اِمتیاز اور ان کی شناخت کے لیے اَعْمَش(چندھا) اَعْرَج(لنگڑا) اَعْمیٰ (اندھا) طویل (لمبا) وغیرہ عیوب کو ان کے ناموں کے ساتھ ذکر کردیتے ہیں جس کا مقصد ہرگز ہرگز نہ