بڑے علماء اور مشائخ اور عابد و زاہد لوگوں کا دامن اس گناہ سے آلودہ نظر آتا ہے۔ غضب یہ ہے کہ لوگ اس طرح غیبت کے عادی ہوگئے ہیں کہ گویا غیبت ان کے نزدیک کوئی گناہ کی بات ہی نہیں ہے شاید ہی کوئی مجلس ایسی ہوگی جواس گناہ کی نحوست سے خالی ہو۔
غیبت کیا ہے ؟: کسی کو غاءبانہ بُرا کہنایا پیٹھ پیچھے اس کا کوئی عیب بیان کرنا یہی ’’غیبت‘‘ ہے ۔چنانچہ مشکوۃ شریف میں ایک حدیث ہے کہ خود حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ کیاتم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے؟صحابہ نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔حضور نے فرمایا تمہارا اپنے (دینی) بھائی کی اُن باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ ناپسند سمجھتا ہے۔(یہی غیبت ہے) صحابہ نے کہا کہ یہ بتاءیے کہ اگر میرے (دینی) بھائی میں واقعی وہ باتیں موجود ہوں (تو کیا ان باتوں کو کہنا بھی غیبت ہوگی؟) تو حضور نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر وہ باتیں ہوں گی جبھی تو تم اس کی غیبت کرنے والے کہلاؤگے اور اگراس میں وہ باتیں نہ ہوں جب تو تم اس پر بہتان لگانے والے ہوجاؤگے۔( جو ایک دوسرا گناہ کبیرہ ہے۔)(1) (مشکوٰۃ،باب حفظ اللسان،ص۴۱۲)
اور اگر کسی شخص کا کوئی عیب اس کو ذلیل کرنے کی نیت سے اس کے منہ پر کہدیا جائے تو یہ ’’اِیذا رَسانی ‘‘ہے اور غیبت و بہتان کی طرح یہ ’’ایذا رسانی ‘‘ بھی گناہ کبیرہ ہے ہاں اگر اصلاح کی نیت سے کسی کا کوئی عیب اس کے سامنے نصیحت کرتے ہوئے بیان کیا جائے تو یہ نہ غیبت ہے نہ بہتان نہ اِیذارَسانی بلکہ یہ اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف اور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکََر یعنی نیکیوں کا حکم دینا اور براءیوں سے روکناہے اور بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث: ۴۸۲۸،ج۲،ص۱۹۲