Brailvi Books

منتخب حدیثیں
21 - 243
 میری اس حقیرخدمت کو قبول فرماکر قیامت کے دن ’’فُقہائے کِرام ‘‘ کی صفِ نعال میں  مجھ کو جگہ عطا فرمادے اور رسولِ رحمت کی شفاعت کی کملی میں  میرے جرموں کی پردہ پوشی فرمادے ۔وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ وَّھُوَ حَسْبِیْ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ    ؎ 
وہ اگرچاہے تو اک قطرہ کو دریا کردے 		اسکی قدرت ہے کہ اک ذرے کو صحرا کردے
اپنے الطافِ کریمانہ سے وہ چاہے اگر		ایک ’’کن‘‘ کہہ کے وہ کونین کو پیدا کردے
	{۲}میں  نے یہ کتاب خاص طور پر مبتدی طلبہ، نئے مقررین اوراردو خواں عوام کے مطالعہ کے لئے تحریر کی ہے ۔ اس کتاب میں  قصداً میں  نے حدیثوں کی سندوں پر محدثانہ کلام نیز مسائل پر فقیہانہ بحثوں اور صَرف و نحو یا علم ِمعانی و بیان کے علمی نکات کو بیان کرنے سے گریز کیا ہے اور شوکت ِ الفاظ ، جدت تراکیب ، عبارت آرائی وغیرہ کے تکلفات سے بھی عمداً اجتناب کیا ہے اور نہایت ہی سادہ اور سَلیس زبان اور بالکل ہی عام فہم عبارت میں  اپنے مفہوم کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لہٰذا ناقدین ِفن اور علمی نِکات کے مُتلاشی احباب سے دست بستہ مُلتجی ہوں  کہ وہ اس مجموعہ میں  مذکورہ بالا مَحاسن کو نہ تلاش کریں  اور یہ سمجھ کر اس مجموعہ کو شرف ِقبول سے سرفراز فرمائیں   کہ    ؎
گل آورد سعدی سوئے بوستاں		بشوخی ، چو فلفل بہ ہندوستاں
	{۳}میں نے بالقصد اس کتاب میں  نہ باب اور فصل کی قیدرکھی نہ مضامین کی ترتیب کا کوئی خاص اہتمام کیا بلکہ مختلف مضامین کی حدیثوں کو یکے بعد دیگرے کسی خاص ترتیب کے بغیر تحریر کرتا چلا گیا کیونکہ میرا تجربہ ہے کہ ایک ہی قسم کے مضامین کو لگاتار پڑھتے  رہنے سے عموماً مطالعہ کرنے والے اکتا جاتے ہیں  اور تازہ بہ تازہ نَوع بَنوع مختلف قسم کے نئے نئے مَضامین کو عجیب عجیب عُنوانوں کے ساتھ پڑھنے سے