الرَّجُلَ لَیَزْنِیْ فَیَتُوْبُ فَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَیَتُوْبُ فَیَغْفِرُ اللّٰہُ لَہٗ وَاِنَّ صَاحِبَ الْغِیْبَۃِ لَا یُغْفَرُ لَہٗ حَتّٰی یَغْفِرَھَا لَہٗ صَاحِبُہٗ (1)(مشکوٰۃ ،باب حفظ اللسان،ص۴۱۵)
ترجمہ :حضرت ابو سعید و حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ غیبت زنا سے زیادہ سخت (گناہ) ہے تو صحابہ نے کہا کہ یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غیبت زنا سے زیادہ سخت (گناہ) کس طرح ہے؟ تو حضور نے فرمایا کہ آدمی زنا کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما کر اس کو بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو خداوند تعالیٰ اس وقت تک نہیں بخشے گا جب تک اس کو وہ شخص معاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔
حضرت جابر: حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی مشہور صحابی ہیں ۔ ان سے بکثرت احادیث مروی ہیں ۔ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔ جنگ بدر اور اس کے بعد کی اٹھارہ لڑاءیوں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ شریک جہاد رہے شام اور مصر بھی تشریف لے گئے تھے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔مدینہ منورہ میں ۷۴ھ کے سال، ۹۴ سال کی عمر پاکر وصال فرمایا ۔سب سے آخری صحابی جن کا مدینہ میں وصال ہوا وہ یہی جابر بن عبداللہ انصاری ہیں ۔ (2)رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اکمال)
فوا ئدو مسائل : غیبت ان گناہوں میں سے ہے جو سب سے زیادہ کثیر الوقوع ہے۔ اور باوجود یکہ انتہائیسخت گناہ کبیرہ ہے یہاں تک کہ زنا سے بھی بدتر ہے مگر اس زمانے میں بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس گناہ سے محفوظ ہیں۔عوام تو عوام جُہَّال تو جُہَّال بڑے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۷۴۔۴۸۷۵، ج۲،ص۱۹۸
2…اکمال فی اسماء الرجال،حرف الجیم،فصل فی الصحابۃ، ص۵۸۹