Brailvi Books

منتخب حدیثیں
208 - 243
 نے بہت ہی واضح لفظوں میں  ارشاد فرمایا کہ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌمبِالسُّوْٓء (1) یعنی ’’نفس ِاَمَّارہ ‘‘کا کام یہ ہی ہے کہ وہ انسان کو ہمیشہ گناہوں  کا حکم دیتا رہتا ہے اور معصیتوں پر ابھارتا رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ’’معصیت اور گناہ‘‘ ہلاکت کے سوااور کس چیز کا سبب بن سکتی ہے؟
بخیلی کی اطاعت:اسی طرح بخیلی کی اطاعت بھی ہر قسم کی نیکیوں سے روکنے والی ہے اور بخیل کو دنیا وآخرت میں  کہیں  بھی آرام و راحت نصیب نہیں  ہوسکتا،دُنیا میں  بھی وہ طرح طرح کی تکلیفیں  اُٹھاتا ہے اور آخرت میں  تو جہنم کے سوا اس کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں  ہے۔
بخیل ار بود زاہد بحر و بر 	بہشتی نباشد بحکم خبر
	یعنی بخیل اگر چہ خشکی اور سمندر ہر جگہ کا زاہد بن جائے پھر بھی وہ حدیث کے فرمان سے’’جنتی‘‘ نہیں   ہوگا۔
اپنی ذات پر َگھمنڈ : اسی طرح اپنی ذات پر َگھمنڈ یعنی اپنے کو سب سے اچھا سمجھنا یہ بھی عذاب دارین کا سبب ہے اور یہ تو وہ ہولناک گناہ اور خوفناک معصیت ہے کہ ابلیس اسی’’اَنَاخَیْرٌ مِنْہُ ‘‘ کے َگھمنڈ میں  مارا گیا اور ذلیل کرکے بِہِشْت سے نکالا گیا اور قیامت تک خالقِ کاءنات اور اس کی تمام مخلوق کی لعنتوں میں  گرفتار رہے گا۔
غیبت زناسے بدتر
حدیث :۳۴
	عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَجَابِرٍ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَکَیْفَ الْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: اِنَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان: بیشک نفس تو بُرائی کا بڑا حکم دینے والا ہے۔  (پ۱۳،یوسف:۵۳)