Brailvi Books

منتخب حدیثیں
207 - 243
فوا ئدو مسائل: حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے اس ارشاد گرامی کا مطلب بالکل واضح ہے کہ تین خصلتیں  وہ ہیں  جو دُنیا اور آخرت کے عذابوں سے نجات دلانے والی ہیں  اور تین خصلتیں  ایسی ہیں  جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں جگہوں  میں  ہلاک کردینے والی ہیں ، نجات دلانے والی خصلتوں کی فہرست یہ ہے :
تقوی:ظاہر و باطن میں  خدا سے ڈرنا ۔ظا ہر ہے کہ خوف الٰہی تمام نیکیوں کے کرنے اور تمام گناہوں  سے بچنے کا سرچشمہ ہے ۔جب تنہاءی اور مجمع ،ظاہر و باطن، ہر جگہ ،ہر حال میں  بندہ خدا سے ڈرتا رہے گا تو یقینا وہ ہر جگہ اور ہر حال میں  وہی کام کرے گا جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو اور ان تمام باتوں سے بچے گا جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو ظاہر ہے کہ جس شخص کا یہ حال ہو گا وہ ان شآء اللہ تعالیٰ ضرور دونوں جہان کے عذاب سے نجات پاجائے گا۔
حق بولنا: اسی طرح جو شخص اس خَصْلَت کا عادی بن جائے گا کہ وہ خوشی کی حالت میں  ہویا ناراضگی کی حالت میں  ہر جگہ ،ہر حال میں  وہ حق بات ہی بولے گاتو وہ گناہ کی باتوں سے ہمیشہ محفوظ رہے گااور اپنی اس حق گوءی پر جہاد کے ثواب کا مستحق  ہوگا لہٰذا ان شاء اللہ تعالیٰ وہ عذاب دارین سے نجات پاجائے گا ۔
درمیانی چال: اسی طرح امیری اور فقیری دونوں حالتوں میں  جو درمیانی چال چلے گا تو ظاہر ہے کہ وہ دونوں حالتوں میں  گناہوں  سے بچے گاجس کا ثمرہ دونوں جہان کے عذاب سے بچنا ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
	ہلاک کردینے والی خصلتوں کی فہرست یہ ہے :
خواہش ِنفس کی پیروی:نفس اَمَّارہ کی پیروی یہی تمام گناہوں  کی جڑ ہے۔قرآن مجید