حضرت زارِع:حضرت زارِع بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی ہیں اور قبیلہ عبد الْقَیْس کے جو نماءندے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے یہ اس وفد میں شامل تھے ۔محدثین نے ان کو ’’بصری محدثین‘‘ کی فہرست میں داخل کیا ہے اور ان کی حدیثیں عام طور پر بصری محدثین ہی کے پاس رہیں ۔(1) (اکمال)
فوا ئدو مسائل:{۱}اِس حدیث سے ثابت ہوا کہ علماء و مشائخ اور صُلحاء امت کے ہاتھ پاؤں کو عقیدت و محبت سے چومنا جائز ہے ۔
چنانچہ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر علماء اور بادشاہ کے ہاتھ کو ان کے علم اور دینداری نیز دین کی تعظیم کی نیت سے کوئی چوم لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ہاں اگر کسی دُنیاوی غرض کے لالچ میں ایسا کرے تو یہ سخت مکروہ ہے۔ (2)(اشعۃ اللمعات،ج۴،ص۲۳)
{۲}علماء کاہاتھ چومنے پر طعنہ زنی کرنے والوں کے لیے اس حدیث اور شیخ محقق کی تصریح میں یقینا ہدایت کا بہت بڑا سامان ہے بشرطیکہ ان کے دلوں پر ِعناد و انکار کی مہر نہ لگ چکی ہو۔
مگر حقیقت تو یہ ہے کہ علماء کرام کے اعزاز و وقار اور ان کے اثر و اقتدار کو حاسدانہ نگاہوں سے دیکھنے والے کبھی بھی اور کہیں بھی اور کسی طرح بھی اپنی زبانوں کو اعتراض کی گندگی سے نہیں بچائیں گے کیونکہ’’ حسد‘‘ ایک ایسی آگ ہے کہ تمام سمندروں کا پانی بھی اس آگ کو نہیں بجھاسکتا اور اس آگ کے بجھنے کی اس کے سوا کوئی صورت ہی نہیں ہے کہ حاسد کی زندگی کا چراغ ہی بجھ جائے ۔حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
2…اکمال فی اسماء الرجال،حرف الزاری،فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۵
2…اشعۃ اللمعات،کتاب الآداب،باب المصافحۃ والمعانقۃ، ج۴، ص۲۳