Brailvi Books

منتخب حدیثیں
204 - 243
گرم ہوگیا اور روز بروز مسلمانوں کا یہ مرض اس تیزی کے ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے کہ کچھ بھی نہیں  کہا جاسکتا کہ آءندہ قومِ مسلم کا کیا حال  ہوگا؟مسلمانوں کے ہر طبقے میں  حرص و ہوس اور بغض و حسد کی بیماری اس طرح پھیل گئی ہے کہ ’’مسلم معاشرہ‘‘اقوام عالم کی نگاہوں  میں  اسقدر ذلیل و خوار ہوچکا ہے کہ غیر مسلموں کا بچہ بچہ مسلمانوں کے کرتوت اور کردار سے متنفرو بیزار نظر آرہا ہے۔گھر گھر میں  سامانوں اور جائداد وں کے جھگڑوں کی کش مکش اور دنیاوی اقتدار کی جنگ سے’’مسلم معاشرہ ‘‘جنگ و جِدال کی آماجگاہ اور ُکشت و قتال کا میدان کارزار بنا ہوا ہے جس کا نتیجہ نظروں کے سامنے ہے کہ مسلم قوم ہلاکت و تبا ہی کے ایسے عمیق غار میں  گرتی چلی جارہی ہے کہ اب نصرت خداوندی کے سوا اس قوم کی صلاح و فلاح کی کوئی صورت نظر نہیں  آرہی ہے۔فیااسفاہ ویاحسرتاہ
علماء کی دست بوسی
حدیث :۳۲
	  عَنْ زَارِعٍ وَکَانَ فِیْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَّوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ یَدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَہٗ۔
 رواہ ابوداود (1) (مشکوٰۃ،باب المصافحہ،ص۴۰۲)
	ترجمہ: حضرت زارِع جو قبیلہ عبد الْقَیْس کے نماءندوں میں  شامل تھے فرماتے ہیں  کہ جب ہم مدینہ میں  آئے توہم لوگ جلدی جلدی اپنی سواریوں سے اتر پڑے اور ہم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دینے لگے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب، باب المصافحۃ والمعانقۃ، الحدیث: ۴۶۸۸، 
            ج۲،ص۱۷۱