اس حدیث میں غیب کی خبر دے رہے ہیں کہ میری امت قیامت تک مشرک نہیں ہوگی اور اس امت میں شرک نہیں پھیلے گا۔
اگرچہ بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ اس وقت تک قیامت نہیں قائمہوگی جب تک کہ’’ قبیلہ دوس ‘‘کی عورتیں بتوں کا طواف نہ کریں گی۔ان دونوں حدیثوں میں تَطْبِیْق اس طرح دی جائے گی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ساری امت ایک دم مشرک ہو جایئں ایسا تو قیامت تک نہیں ہوگالیکن کہیں کہیں کچھ بستیوں والے یا کچھ افراد شرک میں مبتلا ہوجایئں ایسا ہوسکتا ہے۔ چنانچہ ’’قبیلہ دوس‘‘کی عورتوں میں شرک پھیل جائے گاجیسا کہ بعض حدیثوں میں آیاہے۔
{۹}حدیث کا آخری ٹکڑا ’’وَلٰکِنْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ َتنَافَسُوْ فِیْھَا‘‘کا یہ مطلب ہے کہ مجھے یہ خوف اور ڈر ہے کہ میری امت والے دُنیا کی محبت میں گرفتار ہو کر اس طرح دُنیا کی رغبت میں پھنس جایئں گے کہ ایک دوسرے سے بغض و حسد کریں گے اور جنگ و جِدال، کُشت و قِتال کا بازار گرم کریں گے چنانچہ بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ جیسے اگلی امتیں دنیا کی رغبتوں میں پھنس کر ہلاک ہوگئیں اسی طرح میری امت بھی دُنیاوی رغبتوں کا شکار ہوکر ہلاکت کے غار میں گرپڑے گی۔
چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سینکڑوں برس پہلے جو غیب کی خبر دی تھی آپ کی یہ پیش گوءی حرف بہ حرف پوری ہوئی کہ صحابہ اور تابعین و تبع تابعین رضی اللہ عنہم کے بعد دُنیاوی رغبتوں کے باعث اُمتِ رسول میں تَحاسُد و تَباغُض کا دور دورہ اس شدت اور تیزی کے ساتھ رونما ہو گیا کہ مسلمانوں کے درمیان جنگ و جِدال اور ُکشت و قتال کا بازار