Brailvi Books

منتخب حدیثیں
202 - 243
جانداروں کے نُطْفے بھی زمین سے نکلی ہوئی غذاؤں ہی کی پیداوار ہیں  کیونکہ اگر جاندار زمین سے نکلی ہوئی غذائیںنہ کھاتے تو ان کی زندگی کہاں ہوتی ؟ ان کے جسم میں  خون کہاں سے پیدا ہوتا؟اور بِلا خون کے نُطْفہ اور مَنی کہاں سے پیدا ہوتی؟ غرض تمام جانور اور جاندار اور ان جانداروں کی زندگانی کا سارا سازوسامان زمین ہی سے نکلتا ہے۔ اس لحاظ سے ’’خزاءن الارض‘‘میں  تمام حیوانات، نباتات،جمادات داخل ہیں  بلکہ زمین و آسمان کے درمیان کی کاءنات بھی زمین کے خزانوں میں  شامل ہے۔ کیونکہ بدلی، بارش، اولے، قوسِ قُزَح ،ہالہ ،رَعْد، بَرق، غرض تمام فضاءی کاءنات زمین ہی سے نکلے ہوئے ’’بخارات‘‘ کی پیداوار ہیں ۔
	لہٰذا اب اس حدیث شریف کا یہ مطلب ہوا کہ زمین کی ساری کاءنات اور تمام مخلوقات جو سب زمین کے خزانے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سب میں  تصرف کا مالک و مختا ر بنادیا ہے۔
	جب حدیث کے اندر لفظ ’’خَزاءن الارض‘‘میں  کوئی تَقْیِیْد یا تَخْصِیْص موجود نہیں  ہے بلکہ جمع کی اضافت اِستغراق کا اِفادہ کررہی ہے تو پھر اس صورت میں  ظاہر ہے کہ یقینا اس لفظ کو اس کے عموم ہی پر رکھا جائے گا اور اس کے عام ہونے ہی کی صورت میں  یہ حدیث مقامِ مدح میں  حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے شایان شان رہے گی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کوکل کاءناتِ زمین کا مختاربنادیا ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
{۸}حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے اس حدیث میں  یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ’’وَاِنّیْ وَاللّٰہِ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِیْ‘‘ یعنی خدا کی قسم! میں  یقین کے ساتھ کہتا ہوں  کہ مجھے اپنے بعد میں  تمہارے مشرک ہوجانے کا کوئی خوف نہیں  ہے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم