خزانے کی کنجیوں کو کسی کے ہاتھ میں دے دینااس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ تمام دنیا جانتی ہے کہ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے تو ’’تالا کنجی‘‘فلاں کے ہاتھ میں دیدیا ہے تو اس کامطلب یہی ہوا کرتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو اپنے خزانوں میں تَصَرُّف کا مالک و مختار بنادیا ہے ۔اب قابل غور یہ بات ہے کہ ’’زمین کے خزانوں‘‘ سے یہاں کیا مراد ہے تو بعض شارحین حدیث نے یہ فرمایا کہ اس سے مراد آپ کی وہ فتوحات ہیں جو آپ کو یا خلفاء راشدین یا ان کے بعد کے اُمراء و سلاطین کو حاصل ہوئیں کہ سلطنت روم و فارِس وغیرہ کے تمام خزانے مسلمانوں کے ہاتھ میں آئے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ ’’اَنْتُمْ تَنْتَثِلُوْنَھَا‘‘ یعنی زمین کے خزانے جو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا کئے گئے تم اس کو نکال رہے ہواور حاصل کررہے ہو۔
اور بعض شارحین حدیث نے فرمایا کہ ان خزانوں کے علاوہ سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات،لوہا،تانبا،پیتل وغیرہ قسم قسم کی دھاتیں اور تیل پٹرول وغیرہ کے خزانے بھی مُراد ہیں کہ سب خزانے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بدولت حضور کی امت کو مل گئے۔
{۷}فقیر راقم ُالحروف کا خیال ہے کہ شارحین حدیث نے زمین کے خزانوں کے بارے میں اسلامی فتوحات یا زمین کی قسم قسم کی کانوں کا جو تذکرہ کیا ہے یہ مثال کے طور پر ہے ورنہ ’’خزاءن الارض‘‘صرف یہی سب اور اتنی ہی چیزیں نہیں ہیں بلکہ ’’خزاءن الارض‘‘ میں وہ تمام چیزیں داخل ہیں جو زمین میں سے نکلتی ہیں ۔اس بناء پر تمام جمادات ،نباتات اور حیوانات ،سبھی زمین کے خزانے ہیں ۔ظاہر ہے کہ ہرقسم کی سبزیاں ،غلے، پھل ،قسم قسم کے ذاءقے اور غذائیں ،طرح طرح کی دوائیں ،یہ سب زمین ہی میں سے نکلتی ہیں ۔