اَفعال کے متعلق میں خداوند ِعالَم جل جلالہ کے حضور گواہی دوں گا۔
اس حدیث سے یہ مسءلہ صاف ہوگیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک آنے والے اپنے ایک ایک ’’اُمَّتی ‘‘اور ان کے اعمال و افعال سے باخبر ہیں اور سب کچھ ان کے علم میں ہے ورنہ ظاہر ہے کہ بغیر دیکھے اور بغیر جانے کسی بات کی گواہی دینا شرعًا حرام و ناجائز ہے اس لیے یہ کیونکر ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بے جانے قیامت میں اپنی امت کے لیے گواہی دیں گے۔
{۵}اس حدیث میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ’’وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِیْ الْآنَ‘‘ یعنی خدا کی قسم! میں اس وقت اپنے حوض (کوثر)کو دیکھ رہا ہوں ۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ نبوت اتنی معجزانہ تھی کہ عالَم ِدنیا میں اپنے منبر پر رونق افروز ہوتے ہوئے عالَم ِآخرت میں جنت کے اندر اپنے حوض کوثر کو دیکھ لیا۔اس حدیث سے یہ مسءلہ آفتاب ِنیم روز کی طرح روشن ہوگیا کہ جس طرح حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات و صفات تما م مخلوق میں بے مثل و بے مثال ہے اسی طرح آپ کے ہر ہر عضو شریف کی طاقتیں اور تواناءیاں بھی بے مثل و بے مثال ہیں ۔لہٰذا حضور کے اعضاء ِشریفہ کی معجزانہ طاقتوں کو اگر کوئی اپنے اعضاء کی طاقتوں پر قیاس کرے تو یہ بہت بڑی گمراہی اور جَہالت ہے۔کہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور کہاں ہم عیوب و نَقاءص کے پُتلے؟ ؎ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک۔
{۶}اس حدیث میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ وَاِنِّیْ اُعْطِیْتُ مَفَاتِیْحَ خَزَاءنِ الْاَرْضِ‘‘ یعنی زمین کے خزانوںکی کنجیاں مجھے عطا کی گئیں ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں میرے ہاتھ میں دے دی ہیں ۔