احادیثِ دل
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ سَرْمَدًا صَلِّ عَلٰی حَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَبَدًا
نہ شبم ، نہ شب پرستم ، کہ حدیثِ خواب گویم چوں غلام آفتابم ہمہ از آفتاب گویم
آفتاب ِرسالت حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک بہت ہی ’’بشارت آمیز‘‘ حدیث ہے کہ مَنْ حَفِظَ عَلٰی اُمَّتِیْ اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثاً فِیْ اَمْرِ دِیْنِھَا بَعَثَہُ اللّٰہُ فَقِیْھاً وَّ کُنْتُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَافِعاً وَّشَہِیْداً (مشکوۃ ،کتاب العلم ،ص۳۶)
ترجمہ: جو شخص دینی معاملات کے متعلق چالیس حدیثیں یاد کرکے میری امت تک پہنچا دے گا اللہ تعالیٰ اس کو( قیامت کے دن)اس شان کے ساتھ اٹھائے گاکہ وہ فقیہ ہوگا اور میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے لئے گواہی دوں گا۔
{۱}جب سے اس حدیث کے مُطالعہ سے نظر سرفراز ہوئی برابر دل میں یہ تڑپ اور قلب کی گہرائیوں میں یہ جذبہ موجزن رہا کہ کیوںنہ میں بھی دوسرے مُحَدِّثینِ کرام کی طرح چالیس حدیثوں کا ایک مجموعہ لکھ دوں اور امت ِ رسول کی بارگاہ میں پیش کرکے اس ’’بشارتِ عظمیٰ‘‘ کے امیدواروں کی مقدس فہرست میں اپنا نام بھی درج کرالوں شاید کہ میرا رب کریم اپنے فضل و کرم سے مجھ بے علم و بے عمل اورگناہگار انسان کو بھی اس مایہ ناز سعادت کے اعزاز سے سرفراز فرمادے !
چنانچہ اسی تمنا میں یہ چالیس حدیثوں کا ایک گلدستہ ترجمہ اور شرح کے ساتھ لکھ کر ’’نوادِرُالحدیث‘‘ کے نام سے امتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں نذر کرتا ہوں اور خداوند رحمن ورحیم کی رحمت اور اس کے فضل عظیم سے امیدوار ہوں کہ وہ