Brailvi Books

منتخب حدیثیں
199 - 243
 رکھنے کی ایک نشانی ہے۔(1)(صاوی،ج۱،ص۲۴۵)
{۲}اس حدیث میں  ’’فَصَلّٰی عَلٰی اَھْلِ اُحُدٍ صَلَا تَہٗ عَلَی الْمَیِّتِ‘‘کے بارے میں  دو قول ہیں  علامہ کرمانی نے فرمایا کہ اس سے مُراد یہ ہے کہ نماز جنازہ میں  جس طرح میت کے لیے دُعا پڑھی جاتی ہے اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شہداء اُحد کے لیے اُن کی قبروں کے پاس دعا مانگی۔
	لیکن دوسرے شارحینِ حدیث نے فرمایا کہ آپ نے پورے آٹھ برس کے بعد شہدائے اُحد کی قبروں پر ٹھیک اسی طرح نمازِ جنازہ ادا فرمائییجس طرح آپ دوسری اموات کی نماز جنازہ پڑھتے تھے۔اس صورت میں  یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے خصاءص میں  سے شمار کیا جائے گا کہ آٹھ برس کے بعد کسی میت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے دوسرے لوگوں کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ۔
{۳}حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے منبر پر یہ فرمایا کہ’’اِنِّیْ فَرَطٌ لَکُمْ‘‘ میں  تم لوگوں کے لیے ’’پیش رو ‘‘ہوں ۔ ’’فَرَط‘‘ عربی زبان میں  اس شخص کو کہتے ہیں  جو کہیں  جانے والی جماعت سے پہلے ہی پہنچ کراس جماعت کی تمام ضروریات کا انتظام مہیا کیا کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بارے میں  فرمایا کہ میں  تم تمام امتیوں کے لیے ’’فَرَط‘‘ ہوں  یعنی تم سے پہلے عالمِ آخرت میں  پہنچ کر تمہاری شفاعت اور تمہاری مغفرت کا تمہارے آنے سے پہلے ہی انتظام کروں گا۔
{۴}اس حدیث میں  ’’وَاَنَا شَہِیْدٌ عَلَیْکُمْ‘‘ فرماکر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ اعلان فرمادیا کہ میں  تم تمام امتیوں کا قیامت میں  گواہ ہوں  یعنی تم لوگوں کے ایمان اور اعمال و
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین،سورۃ المائدۃ،تحت الآیۃ: ۳۵،ج۲، ص۴۹۷