ساتھ کہتا ہوں کہ مجھ کو تم لوگوں کے بارے میں ذرا بھی یہ ڈر نہیں ہے کہ تم لوگ میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ تم لوگ دنیا میں رغبت اور ایک دوسرے پر حسد کروگے۔
حضرت عقبہ:عُقبہ بن عامر جُہنی صحابی ہیں ۔یہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور ِ حکومت میں مصر کے گورنر تھے ۔پھر گورنری سے معزول کر دءیے گئے اور مصر ہی میں ۵۸ھ کے سال ان کا وصال ہوا ۔صحابہ اورتابعین کی بہت بڑی جماعت نے ان سے حدیثوں کی روایت کی ہے۔ (1)(اکمال)
فوا ئدو مسائل:اس حدیث سے مندرجہ ذیل فوا ئدو مسائل پر روشنی پڑتی ہے۔
زیارتِ قبور:{۱}حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم شہداء ا حد کی شہادت کے آٹھ سال بعد ان کی قبروں کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خاص زیارت کے قصدسے قبروں پر جانا خصوصاً شہداء و صالحین کی قبروں کی زیارت کرنی یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
جو لوگ قبروں کی زیارت کے سفر کو شرک یا معصیت ٹھہراتے ہیں وہ صراحۃً اس حدیث کی مخالفت کرتے ہیں اور سراسر گمراہی و بد عقیدگی کے وبال میں گرفتار ہیں ۔ علامہ صاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آیت’’وَابْتَغُوْآ اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ‘‘(2)کی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ اولیاء اللہ کے مقابر کی زیارت کرنے والے مسلمانوں کو اس خیال سے کافر کہنا کہ زیارت قبور غیر اللہ کی عبادت ہے یہ بالکل کھلی ہوئی گمراہی ہے۔اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت ہرگز ہرگز غیرُ اللہ کی عبادت نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے بارے میں محبت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال،حرف الزای، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۵
2… ترجمہء کنز الایمان:اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ (پ۶،المائدۃ:۳۵)