شرحِ حدیث:یہ بخاری شریف کی حدیث ہے، اس حدیث کا مطلب بالکل ہی واضح ہے کہ جاندار چیزوں کی تصویر بنانے والے کو خداوند قہّار و جبّار یہ فرما کر عذاب دے گا کہ تم اپنی بناءی ہوئی تصویروں میں روح پھونک کر ان کو زندہ کرو جب تک تم ان تصویروں میں روح نہیں پھونکوگے عذاب میں گرفتار رہوگے اور ظاہرہے کہ وہ ان تصویروں میں کبھی بھی روح نہیں پھونک سکے گااس لیے وہ اس وقت تک عذاب میں مبتلا رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو معاف فرما کر اس کو نہ بخش دے۔
فوا ئدو مسائل:{۱} اس دور پُر فتن کی دینی مصیبتوں میں سے ایک بہت بڑی مصیبت یہ بھی ہے کہ ہر قسم کے سامانوں پر جاندار مخلوقات کی تصویریں عموماً نظر پڑتی ہیں ۔ایک طرف تو مسلم نوجوانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایکٹروں اور ایکٹرسوں یا لیڈروں کی تصویروں سے اپنے مکانوں کو سجا کر ہر ہر کمرے کو بت خانہ بنائے ہوئے ہیں دوسری طرف جاہل صوفی کہلانے والوں کی یہ حرکت ہے کہ وہ بزرگوں کی کچھ اصلی کچھ فرضی تصویریں اپنے گھروں میں رکھے ہوئے ہیں روزانہ ان پر ہار پھول چڑھاتے ہیں اور بعض ان تصویروں کے سامنے مراقبہ کرتے ہیں جو سراسر گمراہی ہے۔واضح رہے کہ ان تصویروں کا رکھنا سخت حرام و ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔لہٰذا علماء ِکرام اور پابند شرع مشائخ کا فرض ہے کہ ان جاہل اور بدعتی صوفی بننے والے باباؤں کو ہمیشہ جھاڑتے،پھٹکارتے اورلتاڑتے رہیں اور عوام کو ان بے شرع لوگوں سے دُور رہنے کی تلقین کرتے رہیں اور جن گھروں میں بھی تصویریں ہوں علماء کرام کو چاہئے کہ ہرگز ہرگز نہ اُن گھروں میں قیام کریں نہ اُن گھروں میں کھانا کھائیں تاکہ لوگوں کو عبرت ہو۔
{۲}کیمرہ یا قلم یا پنسل سے کسی جاندار مخلوق کی تصویر بنانا یا بنوانا یا خریدنا بیچنا یا گھر