عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُہٗ یَقُوْلُ: مَنْ صَوَّرَ صُوْرَۃً فَاِنَّ اللّٰہَ مُعَذِّبُہٗ حَتّٰی یَنْفُخَ فِیْہِ الرُّوْحَ وَلَیْسَ بِنَافِخٍ فِیْھَا اَبَدًا فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَۃً شَدِیْدَۃً وَاصْفَرَّ وَجَھُہٗ فَقَالَ: وَیْحَکَ اِنْ اَبَیْتَ اِلَّا اَنْ تَصْنَعَ فَعَلَیْکَ بِھٰذا الشَّجَرِ وَکُلِّ شَیْیٍٔ لَیْسَ فَیْہِ رُوْحٌ (1) (مشکوٰۃ،باب التصاویر)
ترجمہ:سعید بن ابی الحسن راوی ہیں انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس تھا کہ ناگہاں ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے ابن عباس! میں ایسا آدمی ہوں کہ میری روزی میرے ہاتھ کی کاریگری سے چلتی ہے اور میں ان تصویروں کو بناتا ہوں ، تو ابن عباس نے فرمایا کہ تم سے وہی حدیث بیان کرتا ہوں جس کو میں نے خود رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سُنا ہے ۔میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جو شخص تصویر بنائے گااللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک عذاب دے گا جب تک کہ وہ اس تصویر میں روح نہ پھونک دے اور وہ اس تصویر میں کبھی بھی روح نہیں پھونک سکے گا تو اس آدمی نے لمبا سانس کھینچا اور (خوف سے )پیلا پڑگیا۔ پھر ابن عباس نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو اگر تو اس کے بنانے سے بازنہیں رہ سکتا تو ان درختوں اور بے جان والی چیزوں کی تصویر بنایا کر۔
حضرت سعید بن ابی الحسن: اس حدیث کے راوی سعید بن ابی الحسن بصری تابعی محدث ہیں اور علم حدیث میں حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے شاگرد ِرشید ہیں اور ان کے شاگردوں کی فہرست میں قتادہ اور عون جیسے حدیثوں کے پہاڑ ہیں ۔ ۱۰۹ھ میں ان کاوصال ہوا۔ (2) (اکمال)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب اللباس،باب التصاویر، الحدیث:۴۵۰۷، ج۲،ص ۱۴۰
2…اکمال فی اسماء الرجال، حرف السین،فصل فی التابعین، ص۵۹۸