اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْانبیاءِ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ (1) (مشکوٰۃ،باب الجمعہ،ص۱۲۱)
یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام فرمادیا ہے کہ وہ نبیوں کے بدن کو کھائے، اللہ کے سب نبی زندہ ہیں اور ان کو روزی دی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہیں لہٰذا ان کے مقدس جسم کا گلنا سڑنا محال ہے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بال شریف حضور ہی کے جسم کا ایک جزو ہیں تو اللہ تعالیٰ نے حضور کے ان بالوں کو بھی یہ فضیلت عطا فرما دی ہے کہ وہ حضو ر کے جسم مبارک کی طرح کبھی سڑ گل نہیں سکتے۔تم دیکھ لو کہ سینکڑوں برس سے احمد آباد کے ان تمام مقدس بالوں کا ایک ہی حالت پر قائمرہنا یہ بھی ایک کھلی ہوئی دلیل ہے کہ یہ سب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی کے موئے مبارک ہیں ورنہ اگر کسی دوسرے کے یہ بال ہوتے تو کبھی کے سڑ گل کر فنا ہوچکے ہوتے۔یہ سن کر وہ نوجوان پھر آبدیدہ ہوگیا اور کہنے لگاکہ خدا کی قسم ! میرے تمام شبہات دُور ہوگئے اور مجھ کو یقین کامل ہوگیا کہ ’’یہ موئے مبارک بالکل اصلی ہیں ‘‘میں نے خدا کا شکر ادا کیا، لوگ بھی بہت خوش ہوئے اور وہ نوجوان بھی وہابیت سے مُتَنَفِّر ہوکر پختہ سُنی ہوگیا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ
تصویریں
حدیث :۳۰
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ اَبِی الْحَسَنِ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ اِذْ جَاء ہٗ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا اِبْنَ عَبَّاسٍ اِنِّیْ رَجُلٌ اِنَّمَا مَعِیْشَتِیْ مِنْ صَنْعَۃِ یَدِیْ وَاِنِّیْ اَصْنَعُ ھٰذِہِ التَّصَاوِیْرَ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ لَا اُحَدِّثُکَ اِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ، الحدیث:۱۳۶۶، ج۱،ص۲۶۵