Brailvi Books

منتخب حدیثیں
193 - 243
 آئے ہیں  کہ احمد آباد کے تمام موئے مبارک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  ہی کے بال شریف ہیں تو اگر ہم لوگ اس بات کا یقین کرلیں  کہ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  ہی کے مقدس بال ہیں  تو اس میں  اعتراض کی کیا گنجاءش ہے؟ ایک عورت تو جھوٹ بھی بول سکتی ہے مگر سینکڑوں برس کے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے بارے میں  یہ کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ یہ سب جھوٹے ہیں ؟
	   میری یہ جذبات سے بھری ہوئی گفتگو سن کر وہ اس قدر متاثر ہوا کہ روپڑا یہاں تک کہ وہ میرے گھٹنوں پر سر رکھ کر رونے لگا اور کہا کہ حضور !میں  توبہ کرتا ہوں  کہ اب کبھی بھی میں  ان مقدس بالوں کی تَکْذِیب یا توہین و تَنْقِیْص نہیں  کروں گااور مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کی بات جھوٹ اور غلط نہیں  ہوسکتی ۔
	اس کے بعد وہ نوجوان کہنے لگا کہ حضور !لیکن ایک شبہ میرے دل میں  اَور ہے جو کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اس کے بارے میں  بھی حضور کچھ روشنی ڈالیں  تو میں  بہت ہی ممنون ہوں  گا شاید میرا یہ شبہ بھی دور ہو جایئں۔میں  نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ تو کہنے لگا کہ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کو اس دنیا سے تشریف لے گئے ساڑھے تیرہ سو برس سے زاءد ہوگئے اس طویل مدت اور اتنے لمبے زمانے میں  بال تو بال کوئی ہڈی بھی اپنی اصلی حالت پر بدستور قائمنہیں  رہ سکتی کیا کوئی بال ساڑھے تیرہ سو برس تک بغیر گلے سڑے ’’جیوں کا تیوں‘‘اپنی اصلی حالت پر باقی رہ سکتا ہے ؟
	میں نے چُمکار کر اس کو جواب دیا کہ بیٹا!تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔میرے اور تمہارے بال ساڑھے تیرہ سو برس تو کیا برس دو برس بھی ایک حالت پر سلامت اور باقی نہیں  رہ سکتے لیکن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کا ارشاد ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ