Brailvi Books

منتخب حدیثیں
191 - 243
 مو ئے مبارک ہوں  گے یا نہیں اگر واقع میں  جیسا کہ مشہور ہے وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی کے مقدس بال ہیں جب تو ظاہر ہے کہ ان کی تَکْذِیب یا توہین و تَنْقِیْص سے آدمی یقیناقہر قہارو غضبِ جَبَّار میں  گرفتار ہو جائیں گا کہ تو بہ، نعوذ باللہ! وہ حضور کے مقدس بال کی توہین کے وبال میں  پڑگیا اور اگر واقع میں  حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے مبارک بال نہیں  ہیں  بلکہ لوگوں نے خواہ مخواہ مشہور کردیا ہے تو بھی اس کی تعظیم و تکریم کرنے میں  کوئی دینی نقصان نہیں  بلکہ نیک نیتی اور عقیدت کی بنا پر ثواب ہی کی امید ہے کیونکہ عمل کے ثواب کا دارومدار نیت پر ہے اوراللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی نیتوں کا جاننے والا اور ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
لطیفہ: اس سلسلے میں  احمد آباد کا ایک واقعہ میری زندگی کی ایک ناقابلِ فراموش داستان ہے۔ بارہویں  شریف کے مہینے میں  عام طور پر احمد آباد میں  بہت سی جگہوں  پر موئے مبارک کی زیارت کراءی جاتی ہے۔ایک مرتبہ غالِباً ’’دلّی چکلہ‘‘یا کسی دوسرے محلہ میں  کسی جگہ موئے مبارک کی زیارت کا جلسہ تھا لوگ زیارت کررہے تھے کہ ناگہاں ایک وہابی عقیدہ کا نوجوان اکڑگیا اور اہل محلہ سے مطالبہ کیا کہ اس بال کے موئے مبارک ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ میں  کس طرح یہ تسلیم کرلوں کہ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  ہی کا مقدس بال شریف ہے؟ اس پر بہت زیادہ ’’تُوتُو،میں  میں  ‘‘ہوئی۔ چنانچہ محلہ کے لوگ اس نوجوان کو لے کر میرے پاس دارالعلوم شاہ عالَم میں  آئے۔اس نوجوان نے بڑی بے باکی اور بے ادبی کے ساتھ مجھ سے گفتگو شروع کی اور مجھ سے بھی یہی مطالبہ کیا کہ آپ ثابت کیجئے کہ شہر احمد آباد میں  جتنی جگہوں  پر موئے مبارک ہیں  وہ واقعی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کے ’’بال شریف ‘‘ہیں ۔ اس کا کیا ثبوت ہے؟