طرح حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمکے لعابِ دہن اور کھنکار کو بھی صحابہ زمین پر نہیں گرنے دیتے تھی بلکہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے چہروں اور آنکھوں پر مل لیا کرتے تھے۔
حضرت اَنَس صحابی نے یہ وصیت فرمائییتھی کہ میری موت کے بعد میرے بدن اور کفن میں وہی خوشبو لگاءی جائے جس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا ہے۔ (1) (بخاری،ج۲،باب من زار قوما فقال عندہم،ص۹۲۹)
اس طرح کی بہت سی حدیثوں کو علامہ شوکانی نے ’’نَیْلُ الْاَوْطار‘‘میں ذکر فرما کر یہ تحریر کیا ہے کہ قَدِ اسْتَدَلَّ الْجُمْھُوْرُ بِصَبِّہٖ لِوَضُوْءہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی جَابِرٍ وَ تَقْرِیْرِہٖ للِصَّحَابَۃِ عَلَی التَّبَرُّکِ بِوَضُوْءہٖ (2)(نیل الاوطار،ج۱،ص۱۹)
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر پر اپنے وضو کا پانی ڈالا اور صحابہ نے جو حضور کے غَسالۂ وضو کو اپنے جسموں پر ملا اور حضور نے منع نہیں فرمایا تو اس سے جمہور علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ حضور کے وضو کے پانی کو تبرک بنانا چاہئے۔
بہر کیف حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تمام تبرکات کی تعظیم کرنی چاہئے اور ان کو متبرک سمجھ کر ان کا ادب و احترام کرنا چاہئے۔
موئے مبارک کی زیارت: لہٰذا اس زمانے میں بھی جن بالوں اور جبوں کے متعلق مشہور ہے کہ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا موئے مبارک اور جُبہ شریف ہے ہرگز ہرگز نہ اس کی تکذیب کرنی چاہئے نہ تو ہین و بے ادبی بلکہ انتہائیوالہانہ عقیدت کے ساتھ ان کو تبرک سمجھ کر زیارت کرنی چاہئے ۔
کیونکہ دو حال سے خالی نہیں یا تو واقع میں وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،باب من زارقوماً۔۔۔الخ، الحدیث:۶۲۸۱،ج۴،ص۱۸۲
2…نیل الاوطار فی شرح منتقی الاخبار،کتاب الطہارۃ،باب طہارۃ الماء المتوضأ بہ،ج۱،ص۵۹