کرتے تھے جس کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی نسبت و تعلق ہو۔بخاری شریف میں مذکور ہے کہ حضرت محمد بن سِیرین مشہور باکرامت تابعی محدث نے ’’عُبَیْدہ‘‘ محدث سے کہا کہ میرے پاس حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چند موئے مبارک ہیں جو حضرت انس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہکے گھر والوں نے مجھے عطا کئے ہیں ۔ یہ سن کر ’’عُبَیْدہ‘‘ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان مقدس بالوں میں سے ایک بال بھی ہوتا تو وہ میرے نزدیک تمام دنیا و مافیہا سے بڑھ کر محبوب ہوتا۔
حضرت انس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہکا بیان ہے کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ ُالوَداع کے موقع پر منٰی میں اپنے سر کے بال اتر وائے توسب سے پہلے حضرت ابو طلحہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس بالوں کو بطور تبرک لے لیا۔ (1)(بخاری،باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان،ج۱،ص۲۹)
اسی طرح صحابہ کرام حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں کو بھی انتہائیمعظم و متبرک سمجھتے تھے۔ حضرت امیر المؤمنین ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء کے پاس حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ’’ جُبّہ ‘‘تھا۔وہ بیماروں کو اس کا دھوون پلاتی تھیں اور شفاء حاصل ہوتی تھی۔مسلم شریف میں ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ٹوپی میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک کو تبرکا ًرکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہر جنگ میں انہی مقّدس بالوں کی برکت سے مجھے فتح و نصرت حاصل ہوتی ہے۔ بخاری شریف میں متعدد جگہ یہ حدیث ہے کہ صحابۂ کرام حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے غَسالہ وضو کو لوٹ لیتے تھے اور برکت کے لیے اپنے چہروں پر ملتے تھے۔ اسی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الوضوئ،باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان، الحدیث:۱۷۱،
ج۱،ص۸۳