حضرت عبداللہ بن سلام: بہت ہی نامور اور مشہور صحابی ہیں ۔ یہ یہودیوں کے سب سے بڑے عالِم اور تورات و انجیل کے بہت ہی ماہر تھے ۔مدینہ ہی کے باشندے تھے، مدینہ ہی میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔یہودی ان کے بڑے دشمن تھے کیونکہ یہ یہودیوں کے اکثر خود ساختہ مسائل کے ڈھول کا پول کھول دیا کرتے تھے۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو جنت کی بشارت دی تھی۔ ۴۳ھ کے سال مدینہ منورہ میں ان کا وصال ہوا۔ (1) (اکمال)
فوا ئدو مسائل: {۱}محدث عبد الرزاق نے اس حدیث کو اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت ابو بُردہ کے والد حضرت ابو موسی اَشْعَری نے خاص طور پر ابو بُردہ کو مدینہ منورہ حضرت عبداللہ بن سلام کی خدمت میں علم حاصل کرنے کےلیےبھیجا تھا۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن سلام سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مرحبا(خوش آمدید)کہا اور پھر فرمایا کہ تم میرے مکان پر چلو میں تمہاری اس شان کے ساتھ مہمان نوازی کروں گا کہ میں تم کو اُس مقدس پیالے میں کچھ پلاؤں گاجس میں حضور رحمت ِعالَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پانی نوش فرمایا تھااور تم میری مسجد میں نماز پڑھوگے جس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تھی ۔چنانچہ جب ابو بُردہ ان کے مکان پر گئے تو انہوں نے کھجور کھلا کر اسی متبرک پیالے میں ستو گھول کر پلایا۔
{۲} تبرکاتِ نبوت کی تعظیم:اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تبرکات کی تعظیم و تکریم اور ان کیساتھ والہانہ محبت صحابہ کرام کا مقدس طریقہ ہے۔چنانچہ احادیث سے ثابت ہے کہ حضرات صحابہ کرام ہر اس چیز کی تعظیم و احترام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اکمال فی اسماء الرجال،حرف العین،فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۶