تبرکاتِ نبوت
حدیث :۲۹
عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ لِیْ: اِنْطَلِقْ اِلَی الْمَنْزِلِ فَاَسْقِیْکَ فِیْ قَدَحٍ شَرِبَ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتُصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدٍ صَلّٰی فِیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَہٗ فَسَقَّانِیْ سَوِیْقًا وَاَطْعَمَنِیْ تَمْرًا وَصَلَّیْتُ فِیْ مَسْجِدِہٖ (1) (بخاری، ج ۲، ص ۱۰۹۱)
ترجمہ :ابو بُردہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ میں مدینہ آیا تو مجھ سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملاقات کی پھر فرمایا کہ تم گھرچلو میں تم کو اس پیالے میں کچھ پلاؤں گا جس پیالے میں رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پیا تھا اور تم اُس مسجد میں نماز پڑھوگے جس میں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا تو انہوں نے مجھ کو (اُس پیالہ میں ) ستوپلایااور کھجورکھلاءی اور میں نے ان کی مسجد میں نماز پڑھی۔
حضرت ابو بردہ: ان کا نام عامر ہے ۔یہ بہت مشہور تابعی اور ایک مشہور صحابی حضرت ابو موسی اَشْعَری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ہیں ۔یہ حدیث میں اپنے والد اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ دوسرے جلیل القدر صحابہ کے شاگرد ہیں ۔قاضی شُرَیْح کے بعد یہ کوفہ کے قاضی بنادءیے گئے تھے مگر عبدالملک بن مروان کے گورنر حجاج بن یوسف ظالم نے ان کو معزول کردیا۔ (2) (اکمال)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب ما ذکر النبی صلی اللّٰہ علیہ
وسلم وحض علی اتفاق۔۔۔الخ، الحدیث:۷۳۴۱،ج۴،ص۵۱۸
2…اکمال فی اسماء الرجال،حرف البائ،فصل فی التابعین، ص۵۸۸