Brailvi Books

منتخب حدیثیں
186 - 243
 عنہ  سے فرمایا کہ اے ابو الْفَضْل! تم بھی دُعاء مانگو تو حضرت عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس طرح دُعاء مانگی کہ
         ’’اَللّٰھُمَّ لَمْ یُنْزَلْ بَلَاء اِلَّا بِذَنْبٍ وَلَمْ  یُکْشَفْ اِلَّا بِتَوْبَۃٍ وَقَدَ تَوَجَّہَ بِیَ الْقَوْمُ اِلَیْکَ لِمَکَانِیْ مِنْ نَبِیِّکَ وَھٰذِہٖ اَیْدِیْنَا اِلَیْکَ بِالذُّنُوْبِ وَنَوَاصِیْنَا بِالتَّوْبَۃِ فَاسْقِنَا الْغَیْثَ‘‘
	یااللہ! ہر بلا گناہوں  کے باعث ہی اتاری جاتی ہے اور بغیر توبہ کے کوئی بلا دفع نہیں  کی جاتی ساری قوم میرے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوئی ہے کیونکہ مجھ کو تیرے نبی سے ایک خاص تعلق ہے یہ ہمارے گناہگار ہاتھ اور ہماری توبہ کرنے والی پیشانیاں تیرے حضور میں  حاضر ہیں لہٰذا تو ہم لوگوں کو سیراب فرمادے۔
	راوی کا بیان ہے کہ حضرت عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی دُعا ء کے بعد پہاڑوں کی طرح بدلیاں ہر چہار طرف سے آگئیں   اور خوب بارش ہوئی یہاں تک کہ زمین سیراب ہوکر سرسبز و شاداب ہوگئی۔ (1) (حاشیہ بخاری،ص۱۳۷)
{۳}حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس دُعاء میں  یہ تصریح فرمادی کہ 
	پہلے ہم تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  کو وسیلہ بناکر دُعا مانگا کرتے تھے اور اب ہم تیرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا کو وسیلہ بناکر دُعا مانگتے ہیں ۔
	اس سے ثابت ہوگیا کہ نبی اور غیر نبی ،زندوں اور وفات پاجانے والوں، سب کو دُعاؤں میں  وسیلہ بنانا جائز ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…عمدۃ القاری،کتاب الاستسقاءا با ب سؤال الناس الامام۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۱۰۱۰، 
           ج۵،ص۲۵۵