Brailvi Books

منتخب حدیثیں
185 - 243
 انبیاء و اولیاء اور دوسرے صُلَحاء ِ اُمت کا وسیلہ پکڑنا اور ان کے وسیلوں سے اپنی مرادوں کو بارگاہِ الٰہی سے طلب کرنا یہ ایک ایسا مسءلہ ہے کہ اس پر تمام صحابۂ کرام کا اجماع و اتفاق ہے ۔کیونکہ ظاہر ہے کہ نمازِ استسقاء میں  حضور امیر لمؤمنین فاروق اعظم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے ساتھ ہزاروں صحابہ دُعا میں  شریک ہوتے رہے ہوں  گے اور اس دعا کو سنتے رہے ہوں  گے ۔
	اگر خدانخواستہ وسیلوں کے ساتھ دُعا مانگنا شرک یا گناہ ہوتا تو نہ حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظم اس طرح دُعا مانگتے نہ صحابہ اس دعا ء کو پسند کرتے۔اگر بال برابر بھی یہ دُعا خلاف ِشریعت ہوتی تو ہزاروں صحابہ ہرگز ہرگز اس کو برداشت نہیں  کر سکتے تھے بلکہ ضرور حضرت فاروقِ اعظم کو ٹوک دیتے مگر جب حضرت فاروقِ اعظم نے اس طرح دعا مانگی اور تمام صحابہ نے اس دُعا کو پسند کر کے اس پر’’آمین ‘‘کہاتو یہ اجماع ہوگیا کہ بلاشبہ اس طرح دُعامانگنا جائز بلکہ مستحب ہے۔
{۲} حضرت علامہ عینی نے تحریر فرمایا کہ ’’ابو صالح‘‘کی روایت کردہ حدیث میں  یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ منبر پر کھڑا کیا اور پہلے خود اس طرح دُعا مانگی کہ
        ’’اَللّٰھُمَّ  اِنَّا تَوَجَّھْنَا  اِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیِّکَ وَصِنْوِ اَبِیْہٖ فَاسْقِنَا الْغَیْثَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ الْقَانِطِیْنَ‘‘
	 یااللہ! عزوجل ہم سب تیرے نبی کے چچا کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں  لہٰذا تو ہم لوگوں کوبارش سے سیراب فرما دے اور ہم کو ناامید نہ فرما۔
	اس کے بعد حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس  رضی اللہ تعالیٰ