حقیقت میں جنت کا باغ ہے اور قیامت میں یہ زمین کا ٹکڑا مدینہ منورہ سے اُٹھا کر جنت میں پہنچادیا جائے گا۔واللہ تعالیٰ اعلم۔
وسیلہ
حدیث :۲۸
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ اِذَا قُحِطُوْا اِسْتَسْقٰی بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ:اَللّٰھُمَّ اِنَّا کُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا فَتَسْقِیْنَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ: فَیُسْقَوْنَ (1)
(بخاری،ابواب الاستسقاء،ص۱۳۷)
ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،جب لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوتے تھے تو حضرت عباس بن عبد المطلب کے وسیلہ سے بارش کی دُعا مانگا کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ
یا اللہ ! عزوجل ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اس وقت تو ہم کو بارش سے سیراب فرماتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کوتیری بارگاہ میں وسیلہ بناتے ہیں لہٰذا تو ہم کو سیراب فرما دے تو لوگ سیراب کردئے جاتے تھے۔(یعنی بارش ہوجاتی تھی)۔
فوا ئدو مسائل:
{۱} بخاری شریف کی یہ حدیث کھلی ہوئی دلیل ہے کہ خدا سے دُعا مانگتے وقت حضراتِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الاستسقاءا باب سؤال الناس الامام۔۔۔الخ،الحدیث:۱۰۱۰،
ج۱،ص۳۴۶