جنّت کا باغ ہے، ہر ذکرکی مجلس جنّت کا باغ ہے، ہر میدان جہاد جنت کا باغ ہے، پھر مقام مدح میں خاص طور پر اس زمین کے ٹکڑے کو ذکر کرنے کا کیا فاءدہ۔
پھر ایک خاص بات یہ ہے کہ بعض علماء ِکرام نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ ’’مدینہ منورہ ‘‘تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ افضل ہے۔ (حاشیہ بخاری،ص۱۰۹)
ظاہر ہے کہ یہ اِستدلال اُسی وقت درست ہوگا جبکہ اس کے حقیقی معنی مُراد لیے جایئں کہ مدینہ کا یہ ٹکڑا چونکہ جنت ہی کا ایک ٹکڑا ہے اور مدینہ منورہ کے سوا دنیا بھر کے کسی شہر میں بھی ایسا کوئی زمین کا ٹکڑا نہیں ہے اس لیے مدینہ منورہ تمام شہروں سے اس خصوصیت کے لحاظ سے افضل و اعلی ہے ۔ورنہ معنی مجازی کے لحاظ سے آپ پڑھ چکے کہ بہت سے مقامات اور جگہیں جنت کا باغ ہیں ۔
اسی طرح علامہ خطّابی نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کا مقصد لوگوں کو مدینہ منورہ کی سکونت پر ترغیب دلانا ہے۔(1) (حاشیہ بخاری،ص۹۷۵)
ظاہر ہے کہ لوگوں کو مدینہ منورہ میں سکونت کی رغبت اسی وقت زیادہ ہوگی جب لوگ یہ سمجھیں گے کہ واقعی حضور کے منبر اور قبر انور کے درمیان میں زمین کا ٹکڑا حقیقت میں اور حقیقی طور پر جنت کا باغ ہے ورنہ محض اتنی سی بات سے کیا رغبت حاصل ہوگی کہ وہاں عبادت کرنے سے جنّت ملے گی یا وہاں جنت جیسی خیر و برکت ہے کیونکہ اتنی سی بات تو دُنیا میں اور بھی بہت سی جگہوں میں پائی جاتی ہے۔
بہر حال محققین کے قول کے مطابق اس حدیث کے یہی معنی راجح ہیں کہ ہر شخص کو یہ ایمان رکھنا چاہئے کہ منبر اور قبر انور کے درمیان کی زمین واقعی،سچ مُچ اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حاشیۃ صحیح البخاری،ج۲،ص۹۷۵،مطبوعہ کراچی