یا معنی مجازی یہ ہیں کہ زمین کا یہ ٹکڑا جنت کے باغ کے مثل ہے کہ جس طرح جنت کے باغ میں ہر وقت رحمتِ الٰہی کا نزول ہوتا رہتا ہے اسی طرح اس زمین کے ٹکڑے میں بھی بہت زیادہ رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے۔
لیکن حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرّہ العزیز نے ’’لمعات شرح مشکوٰۃ‘‘ میں تحریر فرمایا کہ
علماء ِمحققین کا یہی قول ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا یہ کلام حقیقی معنی پر محمول ہے اور اس حدیث کا یہی مطلب ہے کہ زمین کا یہ ٹکڑا حقیقی معنوں میں جنت کے باغ کا ایک ٹکڑا ہے اور قیامت کے دن زمین کا یہ ٹکڑا بِعَینہ جنت میں پہنچادیا جائے گا اور روئے زمین کے دوسرے ٹکڑوں کی طرح یہ برباد نہیں کیا جائے گا۔ (1) (حاشیہ بخاری،ج۱،ص۱۵۹)
حضرت امام مالک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا بھی یہی قول ہے اور علامہ ابن حجر نے بھی یہ فرمایا ہے کہ’’وَھٰذَا عَلَیْہِ الْاَکْثَرُ‘‘ یعنی اکثر علماء کا یہی مسلک ہے ۔ (2)(مرقاۃ)
اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ اگر اس کلام کے معنی مجازی مراد ہوں یعنی اس زمین کے ٹکڑے کو جنت کا باغ کہنا اس معنی کرکے ہو کہ ’’اس میں عبادت کرنا جنت میں داخل ہونے کا سبب اور ذریعہ ہے‘‘یا’’یہ خیر و برکت میں مثل جنت کے ہے‘‘ تو پھر اس بات میں زمین کے اس ٹکڑے کی خصوصیت ہی کیا رہ جاتی ہے اس معنی میں تو ہر مسجد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حاشیۃ صحیح البخاری،ج۱،ص۱۵۹،مطبوعہ کراچی
وعمدۃ القاری،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، باب فضل مابین القبر
والمنبر، تحت الحدیث:۱۱۹۵،ج۵،ص۵۷۶
2…مرقاۃ المفا تیح،کتاب الصلاۃ،باب المساجدومواضع الصلاۃ،تحت الحدیث:۶۹۴، ج۲،ص۳۹۸