Brailvi Books

منتخب حدیثیں
181 - 243
	ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  روایت کرتے ہیں  کہ حضورنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ زمین کا جو حصّہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان میں  ہے وہ جنت کے باغوں میں  سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔
فوا ئدو مسائل:{۱} علامہ عینی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فرمایا کہ اس حدیث کی صحیح روایت یہی ہے۔ بعض روایتوں میں  اس جگہ’’مَا بَیْنَ حُجْرَتِیْ وَمُصَلَّایَ‘‘ کا لفظ آیا ہے اور بعض روایتوں میں  ’’مَا بَیْنَ قَبْرِیْ وَمِنْبَرِیْ ‘‘بھی وارد ہوا ہے ۔بہر حال تینوں روایتوں کا مدّعیٰ اور حاصل ایک ہی ہے۔ 
{۲} یہ حدیث مختلف سندوں کے ساتھ بخاری شریف میں  چند جگہ مذکور ہے صاحب ِ مجمع البحار اور علامہ عینی و علامہ   ِکرمانی رحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ نے اس حدیث کی شرح میں  تحریر فرمایا ہے کہ یہاں دو احتمال ہیں  ۔حدیث میں  یا تو معنی حقیقی مُراد ہیں  یا مجازی ۔معنی حقیقی تو یہ ہیں  کہ یہ زمین کا ٹکڑا درحقیقت جنت ہی کا ایک ٹکڑا ہے اوریہ بعینہ ایک باغ بناکر جنت میں  پہنچادیا جائے گااور یہ میرا منبر بعینہ حوضِ کوثر پر رکھ دیا جائے گا۔
	اور معنی مجازی یہ ہیں  کہ اس زمین کے ٹکڑے میں  عبادت کرنا جنت میں  جانے کا سبب ہے اور اس منبر کے پاس عبادت کرنا حوض کوثر سے سیراب ہونے کا ذریعہ ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  نے کہیں  یہ فرمایا کہ
	’’ ذکر کے حلقے جنّت کے باغ ہیں  ‘‘ کہیں  یہ فرمایا کہ ’’ جنّت تلوار کے سائے کے نیچے ہے ‘‘ یعنی ’’ ذکر الٰہی کے حلقوں میں  بیٹھ کر عبادت کرنادخولِ جنت کا سبب ہے‘‘ اور ’’ تلوار کے سائے میں  جہاد کرنا یا شہید ہونا جنت میں  داخل ہونے کا ذریعہ ہے۔ ‘‘