Brailvi Books

منتخب حدیثیں
180 - 243
 یاسفیدداغ والے یا لنگڑے لولے کو گھور گھور کر بار بار نہ دیکھیں کہ اس سے ان لوگوں کی دل آزاری ہوگی۔
دوم:کسی کو ایذا نہ دینا ،یعنی اس طرح راستوں پر نہ بیٹھا کریں  کہ راستہ تنگ ہو جائے اور گزرنے والوں کو ایذا پہنچے ۔یوں ہی راستہ چلنے والوں کا مذاق نہ اڑائیں  ، راستہ چلنے والوں کی تحقیر اور عیب جوءی نہ کریں ،سفر کرنے والوں کی جاسوسی نہ کریں  کہ کون کون، کہاں کہاں جاتا ہے اور کیوں جاتا ہے، غرض راستوں پر بیٹھنے والے اپنے کسی قول و فعل سے گزرنے والوں کو تکلیف اور ایذا نہ پہنچائییں  ۔
سوم:ہر گزرنے والے کے سلام کا جواب دیتے رہیں ۔
چہارم:راستہ چلنے والوں کو اچھی باتیں  بتاتے رہیں مثلًا  آگے راستہ میں  کوئی خطرہ ہو یا راستہ میں  کوئی رکاوٹ ہو تو اس سے راستہ چلنے والوں کو آگاہ کرتے رہیں  راستہ بھولنے والوں یا ناواقفوں کو راستہ بتاتے رہیں  اور راستہ چلنے کے شرعی آداب لوگوں کوبتاتے اور سکھاتے رہیں ۔
پنجم:خلاف ِشریعت اور بُری باتوں سے لوگوں کو منع کرتے رہیں تاکہ راستہ چلنے والے سفر میں  کوئی خلافِ شریعت کام نہ کرنے پائیں  ۔واللہ تعالیٰ اعلم ۔

جنت کا باغ
حدیث :۲۷
            عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ(1)(بخاری،باب فضل ما بین القبروالمنبر،ص۱۵۹)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ و المدینۃ، باب فضل مابین القبر
           والمنبر،الحدیث:۱۱۹۶،ج۱،ص۴۰۳