کے سلام کا جواب دینا {۴}اچھی باتوں کا حکم دینا {۵}بُری باتوں سے منع کرنا۔
فوا ئد:{۱}علامہ قَسْطَلانی نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا یہ حکم کہ’’تم لوگ راستو ں پر بیٹھنے سے بچو‘‘یہ حکم وُجوبی نہیں تھابلکہ اِسْتِحْبَابی تھاکیونکہ اگر یہ حکم وُجوبی ہوتا تو صحابہ اس کے جواب میں ہرگز ہرگز کبھی یہ نہ کہتے کہ ہمارے لیے تو راستوں پر بیٹھنے سے چارہ ہی نہیں ہے نہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے کہ اچھاتم لوگ بیٹھوتوراستوں کا حق دیتے رہو۔ (1)(حاشیہ بخاری،ص۹۲۰،ج ۲)
{۲}مذکورہ بالا پانچوں باتوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے راستہ کا حق قرار دیا ہے اور مومن پر ازروئے شریعت ہر حق والے کا حق ادا کرنا واجب ہے لہٰذا جو لوگ راستوں پر بیٹھیں ان پر واجب ہے کہ ان پانچوں باتوں پر عمل کریں ۔
{۳} بلا ضرورت راستوں پر بیٹھنا اگرچہ راستہ کے حقوق ادا کرنے کی صورت میں حرام اور گناہ تو نہیں مگر چونکہ یہ کوئی اچھی خصلت بھی نہیں ہے لہٰذا حتی الوسع مسلمانوں کو اس سے پرہیز ہی کرنا چاہئے۔خصوصاً اس زمانے میں جبکہ بے پردگی بلکہ عریانی و برہنگی فیشن بن چکی ہے سڑکوں اور راستوں پر لوگوں کا بیٹھنا بہت سے مفاسد کا پیش خیمہ ہے لہٰذا اس سے خاص طور پر پرہیز کرنا چاہئے۔
{۴} راستوں کے پانچوں حقوق کی قدرے تفصیل یہ ہے :
اوّل: نگاہوں کو نیچی رکھنا، چونکہ راستوں پر عورتیں اور مردبھی گزریں گے اس لیے بیٹھنے والے پر ازروئے حکم شریعت واجب ہے کہ نہ غیر محرم عورتوںپر نظر ڈالیں نہ لوگوں کے ان عیوب کو دیکھیں جن کو راستہ چلنے والے لوگوں سے چُھپانا چاہتے ہیں مثلاً کوڑھی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ارشادالساری،کتاب الاستیذان،باب قول اللّٰہ تعالی۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۶۲۲۹، ج۱۳،ص۲۷۳