جوشخص میرے لیے اپنے دونوںکَلَّوں کے درمیان والی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز (شرمگاہ) کا ضامن ہو جایئں میں اس کےلیےجنت کا ضامن ہوں ۔
تو میری آنکھیں کھل گئیں کہ واقعی اُس مست فقیر نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا وہ فرمانِ رسول ہی کی ایک دلچسپ تعبیر تھی کہ زبان اور فَلان کی حفاظت کرو۔
راستوں کا حق
حدیث :۲۶
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَا لَنَا مِنْ مَّجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیْھَا فَقَالَ: فَاِذَا اَبَیْتُمْ اِلَّا الْمَجْلِسَ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہٗ قَالُوْا:وَمَا حَقُّ الطَّرِیْقِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْاَذیٰ وَرَدُّ السّلَامِ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ (1) (بخاری،کتاب الاستیذان،ص۹۲۰)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ راستوں پر بیٹھنے سے بچو،تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا کہ یارسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم راستوں میں بیٹھنے سے تو ہم لوگوں کو چارہ ہی نہیں ہے کیونکہ ان ہی جگہوں میں تو ہم لوگ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں ،تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے باز نہیں رہ سکتے تو بیٹھو لیکن راستے کا حق دیتے رہو۔صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم راستہ کا کیا حق ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ{۱} نیچی نگاہ رکھنا {۲}کسی کو ایذا نہ دینا {۳} لوگوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،الحدیث:۶۲۲۹،ج۴،ص۱۶۵