نیکیوں پر عمل اور سینکڑوں گناہوں سے بچنا ہے۔بزرگوں نے فرمایا ہے کہ آنکھ دل کا جھروکہ ہے نگاہ پڑنے ہی سے دل میں نیکی یا بدی کا خیال آتا ہے ۔پھر دل اگر سُدھرا تو سارا بدن سُدھرااور دل اگر بگڑا تو سار ا بدن بگڑا۔اب سمجھ لیجئے کہ خدا کے محارم سے نگاہ نیچی رکھنے میں کتنی نیکیوں پر عمل اور کتنے گناہوں سے بچت ہو جایئں گی۔اسی طرح امانتوں میں خیانت سے پرہیز کرنے میں بھی۔ چونکہ خدا کی امانتیں سب ادائے امانت میں داخل ہیں اس لیے امانتوں کے ادا کرنے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد سب پر عمل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اپنے ہاتھوں کو تمام مظالِم اور گناہوں سے روکے رہنے میں ظاہر ہے کہ کتنی نیکیاں ہوں گی اور کتنے گناہوں سے انسان بچ جائے گا۔
بہر حال یہ چھ چیزیں بہت ہی اہم ہیں اور ہر مومن کو ان کی پابندی لازم ہے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان چھ باتوں پر عمل کرنے والوں کے لیے جنّت میں داخل ہونے کی گارنٹی دی ہے۔
لطیفہ:میں ایک مرتبہ دھورا جی کے اندر ندی کے میدان میں وعظ بیان کرکے اپنی قیام گاہ ’’مدرسہ مسکینیہ‘‘میں جارہا تھا تو جامع مسجد کے چھتے کے نیچے ایک مست فقیر نے مجھ کو مخاطب کرکے یہ کہا کہ اے مولوی! اتنا لمبا وعظ مت کہا کربس لوگوں سے اتنا کہدے کہ’’زبان اور فَلان کی حفاظت کرو‘‘اُس وقت تو میں ہنس کر چل دیا اور اس جُملہ کو کوئی اہمیت نہیں دی لیکن جب دورءہ حدیث پڑھاتے ہوئے بخاری شریف کی اس حدیث پر نظر پڑی کہ مَنْ یُّضْمَنْ لِیْ مَا بَیْنَ لَحْیَیْہٖ وَ مَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ اَضْمَنْ لَہُ الْجَنَّۃَ (1) (مشکوۃ، باب حفظ اللسان، ص ۴۱۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۱۲،ج۲،ص۱۸۹