کے کرنے اور تمام قولی گناہوں سے بچنے کی گارنٹی ہے۔
اسی طرح ہر وعدہ کو پورا کرنا، یہ بھی ایک ہی عمل ایسا ہے کہ اس کے اندر ہزاروں نیکیاں کرنے اور ہزاروں گناہوں سے بچنے کی ضمانت ہے۔ظاہر ہے کہ بندوں کا وعدہ دو قسم کا ہے ایک اللہ سے وعدہ ایک مخلوق سے وعدہ۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان سے روز ازل میں ’’ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدْنَا ‘‘ (1)کے ذریعہ اپنی رَبوبِیَّت کا اقراراور اپنی فرماںبرداری کا وعدہ لے لیا ہے اور پھر یہ بھی حکم دیا ہے کہ
اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ (2)
اے بندو!تم اپنے تمام وعدوں کو پوراکرو
تو اب نماز روزہ اور حج و زکوۃ غرض تمام اعمالِ صالحہ کا کرنا یہ اللہ سے کئے ہوئے وعدوں کا پورا کرنا ہے اور اللہ کے کسی حکم سے نافرمانی کرنا یہ وعدہ خلافی کرنا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک وعدہ پورا کرنے کی ذمہ داری میں تمام حقوق اللہ کی ادائیگی داخل ہے۔
اسی طرح مخلوق سے وعدہ پورا کرنے میں مخلوق کو راحت پہنچانا، اس کی حاجتوں کو پوری کرنا ،مومنوں کا دل خوش کرنا،غرض ہزاروں نیک کام اس کے ضمن میں ہوجاتے ہیں اور وعدہ خلافی میں مومنوں کی اِیذا رَسانی ان کی حاجتوںکو روکنا وغیرہ وغیرہ سینکڑوں ہزاروں مفاسد و معاصی جمع ہوجاتے ہیں۔
اسی طرح شرمگا ہ کی حفاظت میں زنا،لِواطت اور ان کے دَواعی وغیرہ سے بچنا اور جائز طریقے سے صاحب اولاد ہونا ہے۔اگر خداوند تعالیٰ نیک و صالح اولاد عطا فرمادے تو وہ ماں باپ کے لیے دنیا و آخرت میں بہتری کا بہترین سامان ہیں ۔
اسی طرح خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نگاہ نیچی رکھنا، اس میں سینکڑوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہء کنز الایمان :کیا میں تمہارا رب نہیں،سب بولے کیوں نہیں ،ہم گواہ ہوئے۔(پ۹،الاعراف:۱۷۲)
2…ترجمہء کنز الایمان:اپنے قول پورے کرو۔(پ۶،المآئدۃ:۱)