قبول کرلو تو میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔{۱} جب بات کرو تو سچ بولو {۲}جب کوئی وعدہ کرو اس کو پورا کرو {۳}جب کوئی امانت تم کو سونپی جائے تو اس امانت کو ادا کرو {۴} اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو {۵} اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو {۶} اپنے ہاتھوں کو (ہر ظلم و مَعْصِیَت سے ) روکے رکھو۔
فوا ئدو مسائل:حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ عز وجل نے ’’جَوَامِعُ الْکَلِم‘‘کا معجزہ عطا فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ و کلمات دیکھنے میں تو بہت ہی مختصر ہوتے ہیں مگر وہ اپنے دامنوں میں اتنے کثیر معانی و مطالِب کا خزانہ رکھتے ہیں کہ گویا ایک کوزہ میں پورا سمندر سمایا ہوا ہے ۔چنانچہ اس حدیث میں بظاہر تو کل چھ ہی چیزیں مذکور ہیں مگر یہ چھ چیزیں ایسی ہیں کہ انسان ان پر مکمل طورسے عامل ہو جائیں تو وہ چھ ہزار بلکہ چھ لاکھ بلکہ تمام گناہوں سے بچ جائے گا اور تمام نیکیوں کا خزانہ اس کے نامۂ اعمال میں جمع ہو جائیں گا۔
مثلًا پہلی چیز کہ زبان سے سچ کے سوا کچھ نہ بولنا ،ظاہر ہے کہ زبان تمام قولی گناہوں کا منبع اور تمام قولی عبادتوں کا سر چشمہ ہے ۔اب جو شخص اس کی ذمہ داری لے لے کہ وہ سچ کے سوا زبان سے کچھ نہ بولے گاتو سُن لیجئے کہ توحید ،رسالت ،قیامت اور تمام عقاءد اسلام کا اقرار ،تلاوت قرآن، تمام درود ووظاءف ،اچھی باتو ں کا حکم دینا، بُری باتوں سے روکنا، غرض ہر چھوٹی بڑی قولی عبادت ’’سچ‘‘ ہی تو ہے ۔لہٰذا سچ بولنے والا تمام قولی عبادتوں پر عامل ہوگا اور کفر وشرک، بہتان، فریب، وعدہ خلافی، جھوٹی شہادت، غلط باتیں ، جھوٹی خبریں ،غرض زبان سے صادر ہونے والے ہزاروں لاکھوں گناہ یہ سب ’’جھوٹ‘‘ہی تو ہیں ۔تو غور کر لیجئے! ایک سچ بولنے کا عہد کر لینے میں تمام قولی عبادتوں